تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 87 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 87

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05 اپریل 1974ء قرآن کریم کی کثرت سے اشاعت کرنی ہے۔کم از کم سوزبانوں میں اسلام کی بنیادی تعلیم پر مشتمل کتاب شائع کرنی ہے۔اور جیسا کہ میں نے اعلان کیا تھا کہ میں علی وجہ البصیرت انسان ہوں، اس لئے غلطی کر سکتا ہوں۔اس یقین پر قائم ہوں کہ جب ہم دوسری صدی میں داخل ہوں گے تو جماعت احمدیہ کی زندگی کی یہ دوسری صدی، غلبہ اسلام کی صدی ہوگی۔اس دوسری صدی میں ہم غلبہ اسلام کے اتنے زبردست جلوے دیکھیں گے کہ ان کے مقابلے میں پہلی صدی ہمیں یوں نظر آئے گی کہ گویا ہم نے غلبہ اسلام کے لئے تیاری کرنے میں سو سال گزار دیئے۔دوسری صدی میں ہم کہیں گے کہ پہلی کوششوں کے نتائج اب نکل رہے ہیں۔جو باغ پہلی صدی میں لگایا گیا تھا، اب ہم اس کا پھل کھا رہے ہیں۔گویا دوسری صدی میں اسلام غالب آجائے گا۔اور اس کے بعد کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے علاقے ایسے رہ جائیں گے، جن میں اسلام کی تبلیغ کا کام کرنا پڑے گا۔تاہم اس وقت ایک بڑا کام، جو باقی رہ جائے گا، وہ ہر نسل کی تربیت کا کام ہوگا۔خدا کرے اس وقت تک کہ جب کافروں پر قیامت آنا مقدر ہو، سو سال تو نہیں، پانچ سوسال بلکہ ہزار سال تک احمدیت کی ایک نسل کے بعد دوسری نسل پوری تربیت یافتہ ہوکر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے والی بن جائے۔اب بند اور دریا کا جو تعلق ہے، وہ واضح ہو چکا ہے۔یعنی اگر بند نہ باندھے جائیں تو پانی کی رفتار میں تیزی نہیں پیدا ہوگی۔جس طرح ایک ہوا خوری کرنے والا آدمی خراماں خراماں چلتا ہے ، اسی طرح دریا کا پانی بھی آہستہ آہستہ بہتا ہوا سمندر میں جا گرتا ہے۔جو پانی کی شکل ہے، وہی روحانی طور پر رفعتوں کی طرف روحانی حرکت کی حالت ہے۔اگر روحانی بند نہ باندھے جائیں ، تب بھی جماعت ترقی تو کرے گی لیکن بہت آہستہ آہستہ ترقی کرے گی۔لیکن جس طرح دریاؤں کو بند باندھنے سے پانی کی رفتار تیز ہو جاتی ہے، مختلف نہریں نکالنے کی سہولتیں میسر آتی ہیں، لاکھوں کلوواٹ بجلی مہیا ہوتی ہے، اسی طرح روحانی طور پر بھی منصوبے (جنہیں میں روحانی بند کہتا ہوں۔) بنائے بغیر تیزی اور شدت نہیں پیدا ہو سکتی۔لیکن اگر دریا میں پانی نہ ہوتو بند باندھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔بند کا فائدہ تو اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ دریا میں پانی ہو۔اسے ایک خاص جگہ پر روک کر اکٹھا کیا جائے اور پھر بلندی سے نیچے گرا کر اس میں غیر معمولی تیزی پیدا کی جائے۔اور اس سے کئی فوائد حاصل کئے جائیں۔اور اگر دریا میں پانی ہو اور اس پر بند نہ باندھا جائے تو دریا کے پانی میں تیزی نہیں پیدا ہوتی۔اس لئے ترقیات کے لئے ہر دو کاوجود آپس میں لازم و ملزوم ہے۔دریا میں عام معمول کے مطابق پانی بھی ہونا چاہیے، ورنہ بند کے اندر پانی حسب ضرورت جمع نہیں ہو سکے 87