تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 88 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 88

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 105 اپریل 1974ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم گا۔اور اگر بند نہ ہوں تو پانی کا ضیاع ہے۔مثلاً جہاں ضرورت نہیں یا کم ضرورت ہے، وہاں پانی زیادہ پہنچے اور جہاں پانی کی زیادہ ضرورت ہے، وہاں پہنچ نہ سکے۔گویا اس کے مختلف فوائد ہیں۔یہی حالت روحانیت کی ہے۔اگر ہم روحانی بند نہ بنائیں تو ہمارے کاموں میں شدت اور تیزی پیدا نہیں ہوگی۔رفعتوں کی طرف ہماری حرکت میں اگر تیزی پیدا نہیں ہوگی، ہماری ترقی کی رفتار بہت ست پڑ جائے گی۔میں نے ابھی تحریک جدید اور نصرت جہاں ریزروفنڈ کی مثالیں دی ہیں۔ہر آدمی کو یہ نظر آ رہا ہے کہ ان کی وجہ سے جماعت کی ترقی کی رفتار میں غیر معمولی تیزی آگئی ہے۔لیکن اگر عام چندے نہ ہوں تو پھر بند باندھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔کیونکہ بند میں جمع ہونے کے لئے پانی نہیں جائے گا۔یعنی بند باندھنے کے باوجود اس میں شدت پیدا نہ ہوگی۔اس لئے معمول کے مطابق جس طرح دریا میں پانی رہنا چاہیے، اسی طرح عام چندوں کی ادائیگی بھی از بس ضروری ہے۔جس طرح مختلف موسموں میں دریا کا پانی بڑھتا رہتا ہے، اسی طرح عام چندوں کو بھی آہستہ آہستہ بڑھتے رہنا چاہیے۔کیونکہ جماعت احمدیہ کا قیام بتاتا ہے کہ بہار آ گئی ہے۔ہمارے لئے عید کا سماں پیدا ہو گیا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے عید کی مبارک بادل گئی ہے۔پس جس طرح سورج کی تمازت بڑھتی ہے تو برف زیادہ پگھلتی ہے اور دریاؤں میں پانی زیادہ آ جاتا ہے، اسی طرح ہماری جماعتی زندگی کا یہ سماں متقاضی ہے کہ ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی گرمی جوش مارے تا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ریزروائر کی برف پچھلے اور ہمارے پانی (یعنی مالی قربانی ) میں زیادتی کا موجب بنے۔اور ایسا ہی ہونا چاہیے کیونکہ ہماری اجتماعی فطرت کا تقاضا یہی ہے۔اگر ہم اس میں کمزوری دکھائیں، یعنی ہماری ترقی تدریجی رنگ میں اور آہستہ آہستہ ہو رہی ہو ، یعنی چندہ عام، حصہ آمد یا چندہ جلسہ سالانہ کی ادائیگی کی رفتار ست ہو تو پھر بند باندھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔اور اگر بند نہ باندھیں تو عام چندوں کے خاطر خواہ نتائج نہیں نکل سکتے۔اس لئے بند باندھنے کی بھی ضرورت ہے۔اب ایک نیا روحانی بند بن رہا ہے۔ہم نے پہلے جو روحانی بند باندھے تھے، ہم ان سے روحانی فیض حاصل کر رہے ہیں۔اس وقت تحریک جدید بھی بڑا کام کر رہی ہے۔وقف جدید اور فضل عمر فاؤندیشن بھی اپنے اپنے رنگ میں بڑا کام کر رہی ہے۔مثلاً فضل عمر فاؤنڈیشن نے پہلے جماعت کو ایک لائبریری بنا کر دی تھی۔اب اس کے زیر اہتمام باہر سے آنے والے مہمانوں کے لئے ایک گیسٹ ہاؤس کا ایک بہت بڑا منصوبہ زیر تکمیل ہے۔اس کے پہلے مرحلے پر شاید پانچ سات لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔پھر اس کا ایک دوسرا مرحلہ ہے، جو بعد میں تعمیر ہو گا۔اس پر بھی بہت خرچ آئے گا۔88