تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 929 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 929

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 105 اکتوبر 1973ء حسب ضرورت سکولوں کی کئی عمارتیں بنیں۔ہسپتال کا تو یہ حال ہے کہ اس پر بتدریج خرج تو کرتے ہیں لیکن ضرورت تو ایک حد تک بتدریج نہیں۔( جیسا سکول کی تعمیر میں ہوتا ہے۔بلکہ ایک ہی وقت میں ضرورت پڑتی ہے۔مثلاً پہلے دن ہی ان کو Outdoor Patient کے لئے کمروں کی ضرورت ہوتی ہے Indoor Patient کے لئے کمروں کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی طرح آپریشن تھیٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔چنانچہ اب ان دو ہسپتالوں میں سے، جن کا میں ذکر کر رہا ہوں، ایک ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کا مجھے خط ملا ہے۔پتہ نہیں، ان کو کیا خیال آیا ؟ بڑی نیکی کا خیال آیا۔اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ڈالا ، انہوں نے مجھے لکھا۔ابھی یہاں آکر پرسوں، اتر سوں ان کا خط پڑھا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ گوا میر صاحب نے میرے ہسپتال کے متعلق تفصیل لکھ دی ہوگی اور وہ آپ تک پہنچ چکی ہوگی لیکن میں بھی تفصیل لکھ دیتا ہوں ( یہ ہسپتال جماعت کی ملکیت ہے۔اس کا کچھ حصہ خریدا گیا ہے۔بہت بڑی زمین کے ساتھ اور کچھ حصے بنائے گئے ہیں۔اپنی طرف سے جو حصہ خریدا گیا ہے، اس میں بہت بڑی عمارت تھی۔) کہ اس ہسپتال کے مختلف ونگز (Wings) ہیں اور بڑے بڑے کمرے ہیں، جن میں مریضوں کے لئے رہائشی کمرے بھی شامل ہیں۔گویا یہ ہسپتال اکیس کمروں پر مشتمل ہے۔اس کے علاوہ ڈاکٹر اور دوسرے عملہ کی رہائش کا بھی پورا انتظام ہے۔چنانچہ میں نے اس پر نوٹ دیا تھا کہ یہ ساراخط تفصیل کے ساتھ الفضل میں شائع کرا دیا جائے کہ ہسپتال کی یہ شکل ہے۔اتنے کمرے آؤٹ ڈور کے لئے اور اتنے ان ڈور کے لئے اور اتنے آپریشن تھیٹر کے لئے ہیں۔میرے خیال میں وہاں (اگر مجھے صحیح یاد ہے ) تین کمرے آپریشن تھیٹر کے لئے ہیں۔ہمارے یہاں اس وقت تک فضل عمر ہسپتال میں صرف ایک آپریشن تھیٹر کی ضرورت پڑی اور ایک موجود ہے۔میرے علم میں نہیں کہ یہاں کوئی دوسرا یا تیسرا آپریشن تھیڑ بھی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ ہمارے اموال میں برکت ڈالتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے جو دروازے ہیں، یہ تو بند نہیں ہوں گے۔لیکن آپ نے اپنے لئے الہی رحمتوں کے سامان مالی قربانیوں کے نتیجہ میں جو پیدا کرنے ہیں، اس کا دروازہ نصرت جہاں کے لحاظ سے 20 دسمبر کے بعد آپ پر بند ہو جائے گا۔اس کے بعد اس مد میں کوئی رقم وصول نہیں کی جائے گی۔باقی رہا، اللہ تعلی کا فضل تو وہ تو جماعت پر بے حساب نازل ہورہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ کو یہ بشارت دی تھی کہ جب تک تم ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتے رہو گے، دنیا پر تمہارا بڑا ارعب رہے گا۔اب یورپ دولت کی بڑی فراوانی رکھتا ہے۔وہ بڑے امیر لوگ ہیں۔ہمارا اثر یا ہمارے پیسے کا اثر سکوں میں نہیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت کی شکل میں ہے۔929