تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 930 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 930

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05اکتوبر 1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ہمارے خزانے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بھرے ہوئے ہیں، پاؤنڈ یا سونے، چاندی یا ہیروں سے نہیں بھرے ہوئے۔مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت کی شکل میں جو چیز ہے، وہ دنیا کی ہر چیز مثلاً سونے، چاندی اور ہیرے، جواہرات سے کہیں زیادہ قیمتی اور مفید ہے۔اور پھر وہ بے وفائی کرنے والی بھی نہیں۔یہ دنیوی سکے ہی ہیں، جو بے وفائی کر جاتے ہیں۔ابھی پچھلے دو، تین سال میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ ڈالر ڈگمگا گیا یا پاؤنڈ کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے متعلق کبھی آپ نے سوچا یا تصور میں لائے کہ وہ ڈگمگا گئی یا اس کی کوئی قیمت نہیں رہی؟ انسان نے خود کو اس سے محروم کر دیا تو کر دیا لیکن اس کی رحمت کا جو اثر ہے اور اس کی جو افادیت ہے اور انسان کو اس کی جو ضرورت ہے اور انسان کے لئے اس میں جو جوش ہے، اس میں کبھی کوئی فرق نہیں آتا۔بہر حال یورپین بڑے امیر لوگ ہیں۔چنانچہ سوئٹزر لینڈ میں ڈیڑھ، پونے دو گھنٹے کی پریس کا نفرنس میں ایک شخص جو سوال کر رہا تھا اور وہ بڑا تیار ہو کر آیا تھا، میرے ذاتی حالات کے متعلق اس نے علم حاصل کیا، پھر جماعت کے متعلق اور پیچھے پاکستان میں جو الیکشن ہوئے ، اس سلسلہ میں اس نے پتہ نہیں کہاں کہاں سے معلومات حاصل کی تھیں اور وہ بڑی ہوشیاری سے سوال کر رہا تھا۔چنانچہ اس نے مجھ سے سوال پوچھا (یہ میں مثال دینے لگا ہوں ، رعب کے اس اثر کی ، جوان قوموں پر بھی ہے، جو بڑی امیر | ہیں کہ آپ کی جماعت کا حکومت پاکستان سے کیا تعلق ہے؟ یہ سوال ایسا تھا کہ میں نے سمجھا کہ اس کے پیچھے ضرور کوئی بات ہے۔میں نے جواب دیا کہ ہر اچھے شہری کا ایک اچھی حکومت سے جیسا تعلق ہونا چاہیے، ویسا ہمارا اپنی حکومت سے تعلق ہے۔تو پھر اس کے دل میں جو چھپی ہوئی بات تھی، وہ باہر آ گئی۔اس نے سوچا کہ انہوں نے ایک اصولی جواب مجھے دے دیا ہے۔جو بات میں چاہتا تھا، وہ تو معلوم نہیں ہوئی۔چنانچہ پھر وہ مجھے کہنے لگا کہ کیا حکومت آپ کو اپنے کاموں کے چلانے کے لئے روپیہ دیتی ہے؟ اب دیکھو، جماعت احمد یہ ایک غریب کی جماعت ہے، جو اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کے نتیجہ میں تبلیغ اسلام کا کام کر رہی ہے۔مگر لوگوں کے ذہن میں اس سوال کا پیدا ہونا کہ جب تک حکومت ان کو مالی امداد نہ دے، اس وقت تک جماعت اس قسم کا کام نہیں کر سکتی۔یہ دلیل ہے، اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے سونے، چاندی اور ہیرے جواہرات کے خزانوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔خیر میں مسکرایا اور کہا کہ ہمیں حکومت کوئی پیسے نہیں دیتی اور نہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک فدائی جماعت اسلام کی راہ میں قربانیاں دینے والی پیدا کی ہے۔جس کا ایک حصہ اپنے اموال کا10\1 اور کچھ اس سے بھی 930