تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 908
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 13 جولائی 1973ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم لے کر آٹھ ہفتے تک وقت دیتے ہیں کہ آکر پہلا انٹرویو دو کہ تمہیں ویزا کیوں دیا جائے۔لہذا ایک دن میں تو ویز املنا مشکل ہے۔وہ خود بڑے گھبرائے ہوئے تھے۔مجھے خود بھی بڑی تشویش تھی اور پریشانی بھی تھی کہ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے۔ویزا ملنے کی کوئی صورت نکل آئے۔چنانچہ منگل کی صبح نماز کے بعد میں لیٹا ہوا تھا اور اپنے رنگ میں دعائیں کر رہا تھا۔تو اس دعا کے اندر ایک فقرہ خود میرے دل میں ابھرا۔اور اس نے ایک مجسم شکل اختیار کی۔اس کے پورے الفاظ مجھے یاد نہیں رہے کیونکہ اس وقت میں نے لکھے نہیں تھے۔کچھ اس قسم کا فقرہ تھا۔مجھ سے امید نہیں ہے؟ اس میں اللہ تعالیٰ کے پیار کا اظہار بھی تھا اور کچھ تھوڑی سے ڈانٹ بھی تھی۔اس سے ایک طرف تو مجھے بڑی تشویش ہوئی کہ میں نے غلطی کی ہے۔خدا تعالیٰ پر امید رکھنی چاہئے تھی۔دعا کے الفاظ میں غلطی ہو گئی ہے۔دوسری طرف مجھے اللہ تعالیٰ کے اس پیار پر اتنا لطف آیا کہ میں بتا نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ اپنے عاجز بندوں سے اتنا پیار کرتا ہے کہ انسان کماحقہ شکر بھی ادا نہیں کر سکتا۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ساری مخلوق سے جو رشتہ قطع ہونا چاہئے ، وہ پوری طرح قطع ہونا چاہئے۔اگر خدا تعالیٰ کی راہ میں کام ہے تو اس قسم کی روکیں لا یعنی اور بے معنی ہیں۔چنانچہ جب میں نو بجے کے قریب اپنے دفتر میں گیا، تو پرائیویٹ سیکریٹری ( آج کل چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ ہیں ) آئے اور میں نے ان سے کہا صبح اشارہ ہو گیا ہے۔انشاء اللہ سب کام ٹھیک ہو جائے گا۔ابھی میرے منہ سے یہ فقرہ نکلا ہی تھا کہ دفتر کے ایک اور صاحب دوڑے ہوئے آئے اور کہا کہ فلاں صاحب کا فون آیا ہے۔وہ کہتے ہیں میں برٹش قونصلیٹ سے ملا ہوں، وہ کہتے ہیں ٹھیک ہے۔ہم ابھی ویزا دے دیتے ہیں۔وہ ویزا جس کے لئے اُن کے خیال میں دو ہفتے سے آٹھ ہفتے تک صرف انٹرویو پر وقت لگتا ہے۔ایک دن میں مل گیا۔بلکہ انہوں نے تو یہ بھی کہا کہ حضرت صاحب کے لئے ویزے کی کیا ضرورت ہے۔وہ تو جس ملک میں جانا چاہیں بغیر ویزے کے جاسکتے ہیں۔خیر یہ تو انہی تصرف تھا، جو اس کے دل پر ہوا۔ہمارے دوست نے کہا جو آپ کا ملکی قانون ہے وہ تو پورا کرو اور ویز اجاری کر دو۔چنانچہ دوسرے دن ویزامل گیا۔اب یہ ایک چھوٹی سے بات تھی جس کے لئے صحیح راستہ بھی بتا دیا گیا۔مجھے اس الہی پیار پر بہت لطف آیا۔میرے دل میں اللہ تعالیٰ کی حمد کے جذبات موجزن ہو گئے، کہ اللہ تعالیٰ میرے جیسے عاجز انسان سے یہ پیار کرتا ہے، کہ وہ کام جس کے لئے ہفتوں درکار تھے منٹوں میں ہو گیا۔پس یہ سوال نہیں ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔سوال یہ ہے کہ ہر گھر کے ہر انسان کے ہاتھ میں، اس کی اپنی زبان میں ترجمہ شدہ قرآن کریم پہنچانا ہے۔یہ کام انشاء اللہ ہوکر رہے گا۔یہ بات تو سوچنی بھی نہیں اور یہ ہماری ذمہ داری بھی نہیں ہے کہ روپیہ کہاں سے آئے گا۔جس ہستی نے کہا 908