تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 907
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 13 جولائی 1973ء اب دیکھو اللہ تعالیٰ کتناد یا لو ہے۔اس لئے جب میں یہ کہوں یا کوئی اور کہے کہ ہر انسان کے ہاتھ میں قرآن کریم مترجم پہنچانا جماعت احمدیہ کا کام ہے۔تو دنیا جو کہے سو کہے ، آپ میں سے کسی شخص کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ یہ کہے کہ یہ غریب جماعت اس عظیم الشان کام کو کیسے کرے گی۔آخر اس وقت تک اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال کی شکل میں جو دولت عطا فرمائی ہے، وہ تمہارے پاس کیسے آگئی۔ماؤں کے پیٹ سے لے کر تو کوئی نہیں آیا تھا۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی دین ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کا نتیجہ ہے۔تو کیا اب خدا تعالیٰ کے خزانے خالی ہو گئے ہیں؟ نہیں! اس کے خزانے اب بھی بھرے ہوئے ہیں۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس پر کامل تو کل اور پوری امید رکھی جائے۔جب اس نے یہ کہا کہ یہ کام کرو۔دنیا میں وسیع پیمانے پر اشاعت قرآن کریم کا یہ کام کرو۔تو وہ اس کے لئے وسائل بھی مہیا فرمائے گا۔خود قرآن کریم نے کہا ہے کہ خدا تعالیٰ کی جو تدابیر نافذ ہوتی ہیں اور منصوبے بنائے جاتے ہیں۔ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں ایک وقت مقدر ہوتا ہے۔اس وقت پر وہ کامیابی نمایاں ہو کر بنی نوع انسان کے سامنے آجاتی ہے۔چنانچہ مجھے بھی ایک بشارت کے سلسلہ میں ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ کام اپنے وقت پر ہوگا۔یہ اس وقت کی بات ہے ، جب میں سپین کا دورہ کر رہا تھا۔اسے میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔غرض ہمارے ساتھ تو خدا تعالیٰ بہت پیار کرتا ہے۔اگر کوئی احمدی یہ کہے کہ یہ کیا خدا نے ہمارے ذمہ اتنا بڑا کام لگا دیا ہے۔ہم اس کو کیسے کریں گے۔ہمیں اس کی طاقت ہی نہیں ہے۔تو میں سمجھتا ہوں کہ اس احمدی سے بڑا بد قسمت اور کوئی انسان نہیں ہے۔پرسوں کا ایک واقعہ ہے۔میں دوستوں کو بتادیتا ہوں کیونکہ اس سے خدا کا پیار ظاہر ہوتا ہے۔میرے دل میں اللہ تعالیٰ کی حمد کے جذبات موجزن ہیں۔کسی نے مجھے کہا کہ انگلستان کا ویزہ لینے کے لئے فلاں شخص سے کہا جائے۔کیونکہ لاہور کے برٹش قونصلیٹ (British Consolate) میں ان کی کسی سے دوستی ہے۔وہ جلدی ویزہ لے دے گا۔کیونکہ ہماری تیاری میں دیر ہوگئی تھی۔ملکی حالات کی وجہ سے پروگرام پیچھے ڈالتے رہے تھے۔اب چند دن بعد ہم نے روانہ ہونا تھا۔چنانچہ میں نے ان کو فون کیا کہ میں اس سلسلہ میں تمہارے پاس آدمی بھجوا رہا ہوں۔تم کوشش کر کے انگلستان کا ویزا حاصل کرو۔میرا پیغام ان کی بیگم نے سنا تھا۔میں نے آدمی بھیجوا دیا۔لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔پیر کی شام کو ان کا فون آگیا کہ حضرت صاحب کو کسی نے غلط بتایا ہے۔برٹش قونصلیٹ میں میرے کسی سے ایسے تعلقات نہیں ہیں کہ میں ایک دن میں ویزہ لے سکوں۔کیونکہ یہ لوگ تو جب ویزے کی درخواست جائے، تو دو ہفتے سے 907