تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 906
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 13 جولائی 1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم تمہارے لئے پیسوں کا انتظام نہ کرے۔یہ تو نہیں ہو سکتا۔چنانچہ میں نے دوستوں سے کہا مجھے پیسوں کی فکر نہیں ہے۔اسی طرح اس نے کہا ہے کہ ڈاکٹر بھیجو۔ٹیچر بھیجو۔میں نے کہا مجھے اس کی بھی فکر نہیں ہے۔مجھے جس چیز کی فکر ہے اور تمہیں بھی ہونی چاہئے۔وہ یہ ہے کہ ہماری حقیر کوششیں، جب اس کے حضور پیش ہوں، تو وہ ان کو قبول بھی کرے گایا نہیں۔ہماری اپنی غفلت، اپنی کوتاہی اور اپنے گناہ یا اپنی غلطی کہیں ہماری ناکامی کا موجب نہ بن جائے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ خدا کہے میرے پاس کیا لے کر آئے ہو۔میرے خزانے بھرے ہوئے ہیں، اس لئے لے جاؤ مجھے تمہارے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔اور یہ ہمارے اپنے دلوں کے گند کارد عمل ہو کہ ہم اس کے حضور پیش کریں مگر وہ عنداللہ قبول نہ ہو۔اس لئے یہ وہ مقام ہے، جس کی فکر کرنی چاہئے۔پس تم کچھ کر کے بھی فخر نہ کرو، بلکہ کچھ کر کے اور زیادہ عاجزانہ طور پر اپنی گردنوں کو اس کے حضور جھکالو۔کیونکہ خطرے کا وقت اب آ گیا ہے۔تم نے اپنی طرف سے قربانی پیش کر دی۔دیکھنا یہ ہے کہ عند اللہ قبول بھی ہوتی ہے یا نہیں۔یہ ایک بنیادی نکتہ ہے، جو ہر وقت مومنوں کے سامنے رہنا چاہئے۔جب ایک مومن خدا کے حضور کوئی قربانی پیش کرتا ہے، تو وہ اسی پر بس نہیں کرتا۔بلکہ اس کے دل میں خدا کے حضور پیش کرنے کا پہلے سے زیادہ جذبہ پیدا ہوتا ہے۔اس وقت یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پتہ نہیں قبول ہو گا یا نہیں۔لیکن جب تم نے کچھ پیش ہی نہیں کیا تو قبول ہونے ، نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لیکن جس وقت تم نے خدا کے حضور کچھ پیش کر دیا۔اس وقت یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا عنداللہ مقبول بھی ہے یا نہیں۔یہ ایک بڑا اہم سوال ہے اور بڑا نازک سوال ہے۔ہر ایک احمدی کو اس کی فکر کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے کہا یہ تھا کہ مغربی افریقہ میں خرچ کرنے کے لئے کم از کم ایک لاکھ پاؤنڈ جمع کرو۔اور خدا تعالیٰ نے دے دیا تین چار گنا زیادہ۔جماعت نے یہ قربانی باقی چندوں میں اسی طرح شدت اور تیزی کو قائم رکھتے ہوئے دی۔یعنی باقی چندوں کا تسلسل قائم رہا (یہ میں اس وقت کی بات کر رہا ہوں جب پاؤنڈ گیارہ بارہ روپے کا تھا اب تو اس کی قیمت بڑھ گئی ہے)۔چنانچہ پاکستان کی جماعتوں نے قریباً تین لاکھ پاؤنڈ چندہ دیا۔اور ایک لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ بیرون پاکستان کی جماعتوں نے چندہ دیا۔کہا تھا کم از کم ایک لاکھ پاؤنڈ خرچ ہونا چاہئے اور دے دیا ہمیں قربانی کی شکل میں ساڑھے تین لاکھ اور چارلاکھ پاؤنڈ۔صرف یہی نہیں بلکہ ہم نے وہاں جو کلینک کھولے ہیں، ان سے جو بچت ہوئی ہے وہ ایک لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ ہے۔- الحمد لله علی ذالک۔906