تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 904 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 904

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 13 جولائی 1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم پس عربی زبان کو اختیار کرنے کا صرف یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کاملہ نے یہ چاہا کہ صرف یہی ایک زبان ہے، جس میں آخری شریعت اگر اتاری جائے تو نوع انسانی کو اس سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔کیونکہ یہ زبان مختلف معانی کی مشتمل ہے۔یہ زمانہ اور ہے ملک کے حالات بدلتے رہتے ہیں۔اور اس تبدیلی کے نتیجہ میں کئی الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔اور کئی نئے مسائل جنم لیتے ہیں۔ان کو حل کرنے کے لئے زبان کے اندر وسعت کو سمیٹ لینا اور اس سمٹی ہوئی وسعت کو چھپالینے کی طاقت ہوئی چاہئے۔یعنی ایسی زبان ہونی چاہئے جس کے متعلق محض فلسفیانہ رنگ میں نہیں ، یا اپنی خواہش کے رنگ میں نہیں، بلکہ فی الحقیقت یہ کہا جا سکتا ہو کہ اس کے اندر باطنی رموز و اسرار ر کھے جاسکتے ہیں۔اگر وہ زبان نہ ہو، تو اس زبان میں اللہ تعالیٰ کے کلام نے ہر زمانہ کے مسائل کو حل کرنا ہو ، تو وہ نہیں کر سکے گی۔لیکن اگر اس زبان میں اتنی وسعت ہو کہ قیامت تک کے مسائل کے حل کرنے کے لئے وہ پوشیدہ اسرار جو اس زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔پوشیدہ اسرار کے طور پر ودیعت کر دیے جائیں۔تو پھر اس زبان کو اختیار کیا جا سکتا ہے، ورنہ نہیں کیا جاسکتا۔پس اصل زبان عربی ہے۔لیکن دنیا کے مختلف حصوں کے لوگوں کو سمجھانے کے لئے اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔جوحتی الوسع کوشش کے باوجود پھر بھی ناقص رہتا ہے۔اس لئے ہم کہتے ہیں متن سے پیار کرو۔کیونکہ مظہر دل کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ خود تمہیں حالات کے مطابق قرآن کریم کے معانی بتائے گا۔ان نئے معانی کا سیکھنا حقیقتا تو عربی زبان ہی کے ذریعہ ہوسکتا ہے۔کیونکہ عربی زبان ہی اس کی متحمل ہو سکتی ہے۔اس کے بعد طفیلی طور پر ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اردو کا جس رنگ میں استعمال کیا ہے ، وہ بھی بڑا قادرانہ استعمال ہے۔اس کے ذریعہ بھی بہت سارے اسرار ورموز قر آنید انسان پر کھل سکتے ہیں اور کھلتے رہے ہیں۔یہ ہمارا ذاتی مشاہدہ ہے لیکن یہ تو ایک طفیلی چیز ہے۔اصل عربی ہے۔اس لئے متن کو تو ہم نے بہر حال قائم رکھنا ہے۔لیکن متن سے انس اور پیار کو قائم کرنے کے لئے اور قرآن کریم سے ایک لگاؤ اور الفت پیدا کرنے کے لئے ، یہ بات اشد ضروری ہے کہ ہم ہر انسان کے سامنے متن بھی رکھیں۔کیونکہ اس کے دل میں ایک وقت میں یہ خواہش پیدا ہو سکتی ہے اور پیدا ہوتی ہے کہ اسے ترجمہ کے علاوہ عربی سیکھنی چاہئے۔مجھے اس کا ذاتی طور پر علم ہے۔کیونکہ بہت سے دوست مجھے خط لکھتے ہیں کہ ان پر ایک وقت ایسا آیا کہ انہوں نے سمجھا تراجم اور تفسیری نوٹوں سے تو ان کی سیری نہیں ہوتی۔اس لئے انہیں اپنی سیری کے لئے عربی زبان سیکھ کر عربی متن پر غور کرنا چاہئے۔904