تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 903 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 903

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 13 جولائی 1973ء ہر انسان کے ہاتھ میں قرآن کریم مترجم پہنچانا، جماعت احمدیہ کا کام ہے " خطبہ جمعہ فرمودہ 13 جولائی 1973ء جماعت احمد یہ جو دراصل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا باغ ہے، جسے قدرت کے ہاتھ نے خود لگایا ہے۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ اس باغ کو شمر آور کرے اور اس جماعت کو غالب کرے۔قرآن کریم نے ایک اصول بیان کیا ہے اور خدا تعالیٰ کی قدرت کے ہاتھ نے دنیا میں اس اصول کو قائم کیا ہے اور کر رہا ہے۔دنیا پر یہ بات ظاہر ہورہی ہے کہ جو سلسلہ خدا کی طرف سے ہے وہ دن بدن بڑھ رہا ہے۔پس یہ ہماری ایک جدوجہد ہے، جو شروع ہے۔اس کے لئے کچھ ذیلی باتیں میں نے بتادی ہیں۔کچھ بنیادی باتیں ہیں اور وہ یہ کہ ساری دنیا میں قرآن کریم کی اشاعت ہونی چاہئے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر گھر میں جہاں انسان رہائش پذیر ہیں، ہم نے قرآن کریم صرف متن ہی نہیں بلکہ اس زبان میں مترجم جس زبان کو اس گھر کے مکین بولتے اور سمجھتے ہیں، اس گھر میں قرآن کریم کو پہنچانا ہے۔یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے۔یہ بہت عظیم الشان کام ہے مگر یہ انشاء اللہ ہوکر رہے گا۔اللہ تعالیٰ نے یہ بشارت دی ہے کہ یہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ ہوگا۔تا ہم اللہ تعالیٰ نے یہ بشارت نہیں دی کہ زید یا بکر کے ذریعہ ہوگا۔اسی لئے خدا تعالیٰ دوسری جگہ انذار کا پہلو سامنے لے آیا ہے کہ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ ایک اور قوم پیدا کرے گا، جو خدا تعالیٰ کا منشاء پورا کرے گی۔خدا تعالی کی تدبیر اور اس کا منصوبہ اور اس کا ارادہ ناکام نہیں ہوا کرتا۔ہر گھر میں قرآن کریم کا اس زبان میں ترجمہ شدہ نسخہ جس کو اس گھر کے مکین بولتے اور سمجھتے ہیں ، وہ ہم نے پہنچانا ہے۔اللہ تعالیٰ کو انسان کے دل سے پیار ہے۔اس نے انسان کو اپنی محبت کے حصول کے لئے پیدا کیا ہے۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ انسان اس کا بندہ بنے۔اس کی صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھائے۔انسان جو زبان بولتا ہے، اللہ تعالیٰ کو وہ زبان تو پیاری نہیں ہے ، سوائے اس الہبی زبان کے جو کہ بنی نوع انسان کے فائدہ کے لحاظ سے بہترین زبان تھی۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو اختیار فرمایا۔یہ نہیں کہ جو ہمارا محاورہ ہے کہ باقی زبانیں سوتیلی تھیں اور عربی اس کی اپنی تھی اس لئے اس نے عربی کو اپنا یا، ایسا نہیں ہے۔اس زبان کو اللہ تعالیٰ نے کچھ اس طرح بنایا ہے اور انسانی دماغ کو اس طرف رہنمائی کی کہ ابدی زبان جو اپنی تمام خوبیوں کے ساتھ نظر آتی ہے، وہ قرآن کریم کی زبان بن گئی۔903