تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 869
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم تقریر فرموده 102 اپریل 1972 ء ہیں، ان سے زیادہ طاقتور صوتی لہریں توحید باری تعالی کو دنیا میں پھیلانے والی اور قرآن کریم کی شعاعوں کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے والی ہوں۔یہ ایک بڑی خوشکن خبر ہے، جس میں، میں آج آپ کو شریک کرتا ہوں۔تا کہ آپ پھر میرے ساتھ اس مہم کو کا میاب انجام تک پہنچانے کی دعاؤں میں شرکت کے قابل ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں و دن جلد دکھائے ، جب دنیا کے کونے کونے میں خدا اور خدا کے رسول کا نام بلند ہورہا ہوگا۔03۔اس سکیم کے پہلے مرحلہ میں ، میں چاہتا ہوں کہ خدا کرے، ہم اس میں کامیاب ہو جائیں۔اور مشرق وسطی کے ملکوں میں عربی میں ہم ان سے باتیں کریں۔اگر کہیں پابندیاں ہیں، ناسمجھی کی وجہ سے اور بزدلی کے نتیجہ میں اور کم بختی کے باعث تو وہ کمزوریاں ان لوگوں میں ہیں، جن کے ہاتھ میں اس وقت اللہ تعالیٰ نے حکومت کی باگ ڈور دی ہوئی ہے۔اور وہ اپنے فرائض کو فراست اور عقل اور ہمدردی اور اخوت سے نہیں نباہ رہے۔یہ ایک حقیقت ہے اور اس کے اعلان میں مجھے کوئی باک نہیں لیکن وہاں کے جو عوام ہیں، ان کے متعلق یہ بدظنی کبھی نہ کریں کہ وہ بھی ہماری باتیں سننے کے لئے تیار نہیں۔وہ ہماری باتیں سنتے ہیں، جس کا ثبوت یہ ہے کہ مثلاً عراق میں ہمارے علم میں کوئی احمدی نہیں تھا، بعض لوگ باہر سے وہاں گئے ہوئے ہیں۔ایک عراقی وفد موتمر عالم اسلامی کے اجلاس میں جو مدینہ یا مکہ یا جدہ میں منعقد ہورہا تھا، اس میں شرکت کے لئے گیا تو وفد کے اراکین میں ایک احمدی دوست بھی شامل تھے۔ہمیں اس کا کچھ پتہ نہیں تھا۔اور جس وقت وہ عراق سے باہر نکلے اور سعودی عرب ( یعنی غیر ملک) میں داخل ہوئے تو وہاں سے انہوں نے مجھے خط لکھا، جس میں انہوں نے بڑے اخلاص اور محبت اور نیک جذبات کا اظہار کیا اور جماعت کی ترقی کے متعلق دعائیں کیں۔اور بتایا کہ وہ موتمر عالم اسلامی کے عراقی وفد میں شامل ہیں۔لیکن عراق کا اپنا پتہ نہیں دیا تھا۔سعودی عرب میں موتمر عالم اسلامی کا پتہ تو دے دیا۔اس واسطے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہاں کے حالات اس وقت سازگار نہیں ہیں۔سعودی عریبیہ میں بیت اللہ شریف کے متعلق کل میں نے کہا تھا کہ یہ تو ہمارا ہے۔اللہ تعالیٰ نے علاوہ عقلی دلیل کے جو ہمارے دماغ میں آئی ہے کہ اگر حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام واقعہ میں مسیح اور مہدی ہیں اور خدائی وعدے اور بشارتوں کے ساتھ جو قریباً معروف انبیاء میں سے سب کو دی گئی تھیں۔جو ایک لاکھ چوبیس ہزار میں سے جن کے نام کا بھی پتہ نہیں، ان کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔لیکن جن کے حالات ہم جانتے ہیں اور جن کے متعلق تاریخ نے ریکارڈ کر کے بعض باتیں پہنچائی ہیں، ان میں سے 869