تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 852
اقتباس از تقریر فرموده 31 مارچ 1972ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم بن جائے گا۔حالانکہ وہ تو کہتے تھے کہ آج کل تو بنا بڑا مشکل ہے۔میں نے ان سے کہا، مجھے مشکل و شکل کا کوئی پتہ نہیں۔مجھے اگلی شرم سے پہلے وہاں سکول کی عمارت چاہئے۔چنانچہ انہیں سختی سے کہ کر بھجوایا تھا اور اب وہاں عمارت بن گئی ہے۔پہلے وہ سوچ رہے تھے کہ آرڈر دیں گے تو ولایت سے لوہے کی کھڑکیاں بن کر آئیں گی۔وہ چھ مہینے کے بعد پہنچیں گی۔یہ ہو گا اور وہ ہوگا۔میں نے کہا، مجھے کچھ پتہ نہیں۔مجھے تو اکتوبر سے پہلے سکول کی عمارت چاہئے تاکہ وہاں پڑھائی شروع ہو سکے۔پھر وہاں اساتذہ جا رہے ہیں۔میاں بیوی اساتذہ جارہے ہیں۔میں بڑا خوش ہوں کیونکہ عورتوں کو تو میں نے وہاں نہیں بھیجنا تھا۔میں اسلام کی تعلیم کے خلاف یعنی بغیر محرم کے انہیں کیسے غیر ملکوں میں بھجوا سکتا ہوں؟ ان کا محرم ساتھ ہونا چاہئے۔ایک تو جوش میں اپنے بھائی کے ساتھ چلی گئی، بھائی بھی محرم ہے۔دونوں نے اکٹھے رہنا ہے۔لیکن باقی جتنے وہاں گئے ہیں، وہ میاں بیوں اکٹھے گئے ہیں۔اور دونوں کوالیفائڈ اور ماہر ہیں۔اب جہاں جہاں احباب سکول کھولنے لگے ہیں، وہاں بھی مخالفت شروع ہو گئی ہے۔جب مجھے مخالفت کی خبر ملتی ہے تو میری فطرت ایسی ہے کہ جب میں اکیلا بیٹھا ہوا، خط پڑھ رہا ہوتا ہوں ، تب بھی میرے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے کہ 80 سال سے تم مخالفت کر کے ہماری راہیں روکتے رہے ہو، اس کا کیا نتیجہ نکلا ؟ اب اور مخالفتیں کرلو، نتیجہ تو کوئی نہیں نکلنا۔کیونکہ اسلام نے غالب آنا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ احمدیت نے جیتنا ہے۔کیا میں اپنے لئے کام کر رہا ہوں ؟ یا اس لئے ہم کام کر رہے ہیں کہ کہیں سے مربعے مل جائیں گے۔ہم تو خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جونور دنیا میں لائے تھے، اس نور سے اس دنیا کو منور کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم نا کام ہوں؟ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فقرہ بڑا پیارا لگتا ہے کہ میری فطرت میں نا کامی کا ضمیر نہیں ہے۔ہم نے سوچا، غور کیا، مخالفت کے طوفان آئے ، آگئیں لگائی گئیں ، ہمیں تباہ کرنے کے لئے منصوبے بنائے گئے۔تب بھی دل کے اندر سے اور روح کے چھپے ہوئے گوشوں سے یہ آواز نکلی کہ ہماری فطرت میں ناکامی کا خمیر نہیں ہے۔فرو قربانی دیتے ہیں اور جانیں بھی دے دیتے ہیں۔فرد سے قربانیاں لی جاتی ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک، ایک آدمی بارہ، بارہ ہزار ایکڑ زمین سے زیادہ قیمتی وجود تھا۔سندھ میں ہماری انجمن اور تحریک کی جو زمین ہے، وہ قریبا بارہ ہزار ایکڑ ہے۔اب ایک ایک صحابی کے وجود کی قیمت آپ میں سے کون ہے، جو بارہ ہزارایکٹر لگائے گا؟ وہ وجود تو اس سے کہیں زیادہ 852