تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 851 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 851

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از تقریر فرموده 31 مارچ 1972ء لوگوں نے جب دیکھا کہ یہ مقبول ہورہے ہیں۔غانا میں کچھ ہندؤں نے اور کچھ عیسائیوں نے شرارت کی ہے۔انہوں نے مل کر روکیں ڈالنی شروع کیں کہ یہ مکان تو ٹھیک نہیں ہے۔وہاں ایک ہندوستانی ڈاکٹر صاحب ہیں، مجھے تو ان کی عقل پر حیرت آتی ہے کہ چونکہ SOPHISTICATED یعنی اچھی بنی ہوئی آپریشن ٹیبل احمدی ڈاکٹروں کے پاس نہیں، اس لئے وہ آپریشن نہیں کر سکتے۔اب اس سے پوچھیں، بندہ خدا اگر کوئی APPENDIX(اپنڈیکس) کا مریض چیختا ہوا، ان کے پاس آ جائے تو کیا وہ اس کو یہ کہیں گے کہ جرمنی سے جب ہماری آپریشن ٹیل آجائے گی ، اس وقت ہم تمہارا آپریشن کریں گے؟ اس وقت تو زمین پر لٹا کر اس کا آپریشن کر دینا چاہئے۔تا کہ اسے تکلیف سے نجات مل جائے۔لیکن بہر حال لوگ اس قسم کی روکیں ڈال رہے ہیں۔لیکن میں اس کی توقع رکھتا تھا۔کیونکہ جہاں اللہ تعالی کی برکات نازل ہوتی ہیں، وہاں ضروری ہے کہ حسد بھی پیدا ہو۔اگر حسد پیدا نہ ہو تو گویا آپ کی قربانی قبول نہیں ہوئی۔چنانچہ حسد ضرور پیدا ہوتا ہے۔مجھے ان کا خط آیا کہ گورنمنٹ کہتی ہے ، یہ ہے، وہ ہے ، عمارت ٹھیک نہیں ہے۔حالانکہ ہم نے اس غرض کے لئے بڑی اچھی عمارتیں کرایہ پر لے رکھی ہیں۔تو خدا تعالیٰ نے اتنا فضل کیا ہے۔اس ایک ملک میں، میں نے کہا، ہمیں ہزار پونڈ میں منظور کرتا ہوں۔اپنی عمارت بنانی شروع کر دو۔آخر یہ لوگ کس کس راستہ سے ہماری ترقی کو روکیں گے؟ اور اب ان کو اور ضرورت پڑی ہے۔کہتے ہیں ، ضرورت پوری کر دیں گے۔وہاں گیمبیا میں مجھ سے سکول کی بنیادر کھوالی تھی۔اس وقت وہاں ہمارے مبلغ مولوی محمد شریف صاحب تھے۔وہ جب کچھ عرصہ کے بعد مرکز میں آئے تو میں نے ان سے پوچھا ، سکول بن گیا ہے۔(یعنی ہائر سیکنڈری سکول جو یہاں کے انٹر میڈیٹ کالج کے برابر ہے ) تو کہنے لگے ، ہمارے پاس تو پیسے ہی نہیں ہیں۔میں نے انہیں کہا، بندۂ خدا! مجھے تم نے خوامخواہ شرمندہ کرنا تھا۔اگر پیسے نہیں تھے تو مجھ سے بنیاد رکھوانے کی تمہیں کیا مصیبت پڑی تھی؟ کہنے لگے، بس یوں ہو گیا، ووں ہو گیا۔میں نے کہا تو پھر میری طبیعت تو یہ برداشت نہیں کرتی۔میں عاجز بندہ ہوں، اس میں شک نہیں۔لیکن مجھے اس جماعت کا امام بنایا گیا ہے، جس کے بانی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سلام بھجوایا تھا۔وہیں ( یعنی گیمبیا میں ) ہمارے ڈاکٹر بھی دوسری سکیم کے ماتحت کام کر رہے ہیں۔ان سے میں نے پستہ لیا اور ہدایت کی کہ 3 ہزار پونڈ فوراً منظور کرتا ہوں۔مولوی صاحب کو میں نے واپس بھیج دیا اور ہدایت دی کہ جو میں نے وعدے کئے ہیں، وہ بہر حال پورے ہونے چاہئیں۔چنانچہ اب تک اس سکول کا ایک خوبصورت ونگ بن گیا ہے۔دوسرا بھی 851