تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 850
اقتباس از تقریر فرموده 31 مارچ 1972ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کلینک ( ابھی تو بعض جگہیں کرایہ پر لی ہوئی ہیں) کی طرف مائل کر دیا اور وہ بھی آنے لگ گئے۔اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ غرباء کا مفت علاج کرنے کے باوجود ہمیں نقصان نہیں ہوا۔امیر لوگوں کے دل میں فرشتوں نے تحریک چلا دی کہ تم احمد یہ کلینک میں جاؤ اور وہاں پیسے دو اور علاج کرواؤ۔اور تحریک اس طرح چلا دی کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ڈاکٹروں کے ہاتھ میں شفا عطا فرمائی۔دوست یہ بات یاد رکھیں کہ شانی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، انسان کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ کسی کی صحت درست کر دے۔آپ میں یہ طاقت ہے کہ اپنے بچے کو ڈاکٹر بنا دیں۔آپ کے بچے ڈاکٹر میں یہ طاقت ہے کہ وہ کسی مریض کے لئے نسخہ لکھ دے۔آپ میں یہ طاقت ہے کہ اگر کوئی غریب ہے اور آپ کے دل میں اس کے لئے ہمدردی پیدا ہوئی ہے تو بازار سے دوائی لا کر اسے مفت دے دیں۔لیکن آپ میں یہ طاقت نہیں ہے کہ اس مریض کو شفا دے دیں۔یہ طاقت کسی انسان کو حاصل ہی نہیں۔شفاء اللہ تعالیٰ نے دینی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے اپنی برکت اور اپنے پیار کا اس طرح اظہار فرمایا کہ بعض وہ مریض جن کو بڑے بڑے چوٹی کے یورپین ڈاکٹروں نے ، جو بڑی بڑی ڈگریاں رکھتے تھے ، انہوں نے لاعلاج قرار دے دیا تھا، ان کو ایک غریب دعا گو عاجز بندۂ خدا کے ہاتھوں شفا مل گئی۔اور سارے علاقہ میں ایک شہرت اور مقبولیت پیدا ہوگئی۔اور اس پر امیر لوگوں نے بھی وہاں آنا شروع کر دیا۔اس عرصہ میں کہ جس میں ہمارے اکثر ڈاکٹر ایسے ہیں، جن کو ابھی وہاں پہنچے ہوئے پورا سال نہیں ہوا۔ایک، دو ہیں، جنہیں بارہ مہینے ہو گئے یا شاید ایک ڈاکٹر ایسا بھی ہے، جسے سوا سال ہو گیا ہے اور وہ ہیں بھی بوڑھے آدمی اور اس طرح زیادہ کام نہیں کر سکے۔وہ سرجن بھی نہیں ہیں۔ہمیں وہاں ایسے ڈاکٹر ز چاہئیں، جو فزیشن اور سر جن دونوں کام کر سکتے ہوں۔یعنی ایک ہی ہاتھ فریشن کے طور پر نسخہ لکھنے والا بھی ہو اور سرجن کے طور پر آپریشن کے لئے نشتر پکڑنے والا بھی ہو۔غرض کوئی ڈاکٹر وہاں آٹھ مہینے سے کام کر رہا ہے، کوئی تو مہینے سے کام کر رہا ہے اور بعض اس سے بھی کم عرصہ سے وہاں کام کر رہے ہیں۔اور جو امراء وہاں پہنچے ہیں اور انہوں نے وہاں فیس دی ہے، جس سے ہمارے روز مرہ کے خرچ نکال کر جو خالص بچت ہوئی ہے، اس کی مقدار 48,526 پونڈ اسٹرلنگ ہے۔الحمد للہ علی ذالک۔اس کا مطلب یہ ہے کہ 20 پونڈ کے حساب سے قریباً ساڑھے نو لاکھ روپے بنتے ہیں۔اب یہ خالص بچت ہے۔حالانکہ وہ غریبوں کا مفت علاج کرنے کے لئے گئے تھے۔البتہ امیر لوگوں کا علاج کرنے سے انہیں منع نہیں کیا گیا تھا۔اور نہ امیروں کو اپنی طرف جذب کرنے کے لئے ابھی تک بظاہر سامان ہیں۔کیونکہ اپنے کلینک تو ابھی تک نہیں بنے ، عارضی طور پر کرایہ کے مکانوں میں شفا خانے بنارکھے ہیں۔850