تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 812
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 07 جنوری 1972ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم مبلغین کے علاوہ ہمارے پاس پاکستان میں جو شاہد اور معلم ہیں، جو پرانے اصلاح کرنے والے ہیں ، وہ بھی اسی طرح بڑے پایہ کے ہونے چاہئیں۔یہ سارے اس پایہ کے نہیں ، جس پایہ کے ان کو ہونا چاہئے۔اس لئے انہیں یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ اعلیٰ پایہ کے مربیان معلمین بن جائیں۔اور وہ بن سکتے ہیں۔اگر چہ جامعہ احمدیہ کی پڑھائی کے نتیجہ میں تو نہیں بنتے لیکن وہ اپنی دعاؤں کے نتیجہ میں پانی کے مبلغ ضرور بن سکتے ہیں۔کیونکہ دعاؤں کے نتیجہ میں اگر چیز حسب منشاء بن سکتی ہے تو اس لحاظ سے ہر شخص پایہ کا مبلغ بھی بن سکتا ہے۔جو شخص خدا تعالیٰ سے پیار کا تعلق پیدا کرے گا اور دعائیں کرے گا تو خدا تعالیٰ خود اسے سکھائے گا اور اس کا معلم بنے گا۔پس جہاں انتظامیہ کو اس طرف توجہ دینی چاہئے ، وہاں ہر شاہد کو بھی اپنی ذات کی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ورنہ اگر دوسرے عریبک ٹیچرز کی طرح زندگی گزارنی ہے ( میں شاہدین سے کہ رہا ہوں ) تو پھر آپ نے کیا زندگی گزاری؟ اگر آپ نے سکولوں کے عام عربی معلم اور مدرس کی طرح زندگی گزاری تو پھر آپ نے یہ تو بڑا ظلم کیا۔اس معلم کو تو علم ہی نہیں کہ وہ خدا کا پیار کس طرح حاصل کر سکتا ہے اور کتنا حاصل کر سکتا ہے؟ پس شاہدین کو یہ علم ہوتے ہوئے اور دوسروں کو دیکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کتنا پیار کرنے والا ہے اور یہ کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کر سکتے ہیں، پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کے پیار سے محروم رہیں تو میرے نزدیک اس سے زیادہ بد قسمتی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔بہر حال جامعہ احمدیہ پر بھی بڑے پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔میٹرک پاس طلباء لیتے ہیں اور پھر ان کو آگے پڑھاتے ہیں۔پھر جس طرح ہر زندہ اور ہرے بھرے درخت کی ٹہنیاں سوکھ جاتی ہیں، اسی طرح شاہدین میں سے بھی کچھ کاٹنے پڑتے ہیں، ہر سال کچھ چھانٹی کرنی پڑتی ہے۔نتیجہ بہت تھوڑا نکلتا ہے، خرج بڑا ہوتا ہے۔ہمارے وسائل محدود تھے اور جو مبلغین ہم تیار کر رہے تھے، ان پر فی کس خرچ بہت زیادہ تھا۔لیکن یہ کام اپنی ضرورت کے لحاظ سے بڑا اہم ہے، اس لئے اسے جاری رکھنا ضروری تھا۔پس ایک طرف یہ چیز تھی اور دوسری طرف وسعت پیدا کرنی تھی۔اب میں سوچتا ہوں کہ جس طرح میرے دماغ میں آیا ہے، حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے دماغ میں بھی یہی بات آئی تھی کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے کام میں وسعت پیدا کریں۔اور وسعت پیدا کریں، ان لوگوں کے ذریعہ جو تھوڑا گزارہ لیں اور وقف کی روح کے ساتھ آئیں۔چنانچہ آپ نے ایک خطبہ میں ہزاروں کی سکیم بنادی۔آپ نے اپنی خواہش کا اظہار کر دیا۔اب وہ میں سال کے بعد پوری ہوتی ہے یا پچاس سال کے بعد پوری ہوتی ہے، یہ ایک علیحدہ بات ہے۔لیکن آپ نے اپنی ایک خواہش کا اظہار کر دیا۔مطبوعه روز نامه افضل 06 فروری 1972ء) 812