تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 811
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعہ فرمودہ 07 جنوری 1972ء تحریک جدید کے کام کا تقاضا یہ ہے کہ بہت بڑے عالم ہوں وو خطبہ جمعہ فرمودہ 07 جنوری 1972ء بدلے ہوئے حالات میں ہماری قربانیاں اور ہمارے خدمت کے طریق بدل جاتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اور اپنی محبوب جماعتوں کو نئی راہیں بتاتا ہے اور انہیں نئے طریقے سکھاتا ہے۔نئے نئے طریقوں سے انہیں ترقی پر ترقی دیتا چلا جاتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی ایک طریقہ یا ایک سبیل یا ایک راہ یا ایک صراط مستقیم وقف جدید کی شکل میں ہمارے سامنے رکھی ہے۔اور وقف جدید کی روح یہ ہے کہ وقف کی روح کے ساتھ بنی نوع انسان کی خدمت میں وسعت پیدا کی جائے۔چنانچہ حضرت المصلح الموعود رضى الله تعالیٰ عنہ کا دراصل یہی منشا تھا۔کیونکہ اس سے پہلے جماعتی نظام تو موجود تھا، تحریک جدید بھی قائم تھی اور وہ اپنے کاموں میں لگی ہوئی تھی۔جماعت کی ہر ایک تنظیم کا اپنا انتظام تھا اور وہ اپنے کام میں لگی ہوئی تھی۔لیکن میں نے جہاں تک غور کیا اور میں سمجھتا ہوں، یہ میرا اپنا تجزیہ اور استدلال ہے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک طرف تو یہ بات تھی کہ تحریک جدید کا اپنا ایک طریق متعین ہو گیا ہے اور تحریک جدید کے کام کا تقاضا یہ ہے کہ بہت بڑے عالم ہوں۔( خدا کرے کہ ہمیں ایسے عالم میں اور ہمیشہ ملتے رہیں۔) کیونکہ انہیں باہر بھی جانا پڑتا ہے۔جہاں انہیں بڑے بڑے پادریوں سے، جو اپنے آپ کو دنیا کا معلم سمجھتے ہیں۔خواہ وہ معلم ہوں یا نہ ہوں۔بہر حال وہ اپنے آپ کو دنیا کا معلم سمجھتے ہیں، ان کے ساتھ باتیں کرنی پڑتی ہیں۔اس غرض کے لئے جامعہ احمدیہ قائم ہے۔جامعہ احمدیہ کو بھی اپنی ترقی کے لئے سوچنا چاہئے اور بہتری کے لئے سامان کرنا چاہئے۔جامعہ احمدیہ سے شاہد کرنے کے بعد پھر ہم ان کو ریفریشر کورسز کرواتے ہیں، پھر بعض کو زبانیں سکھاتے ہیں، اس کے اوپر بڑا خرچ آتا ہے۔ہمیں اس وقت جتنی ضرورت ہے، اس کے مطابق ہمارے پاس وسائل نہیں ، ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔حالانکہ کام بڑھ گیا ہے۔811