تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 779
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبه جمعه فرموده 29 اکتوبر 1971ء مگر اپنے فضل سے وہ ثواب عطا کرتا ہے۔جب آپ کسی کو اس کی امانت واپس کرتے ہیں تو کوئی احسان تو اس پر نہیں کرتے کہ اتنی رقم اس کو ادا کی۔پس جو اللہ تعالیٰ کا مال ہے، وہی آپ اللہ تعالیٰ کو واپس کر رہے ہیں۔اس میں نیت اور اخلاص کا سوال ہے، احسان تو نہیں۔اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور پھر فرمایا تمہارے لئے میں نے ثواب کا ایک موقع بہم پہنچایا ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ دو بخل اور ایمان ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ جو کچھ بھی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ہے۔دنیا کے سارے اموال، دنیا کی سب دولتیں جو ہیں، ان کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ہمیں تو اس نے مال دیا اور فرمایا، یہ تمہارا حصہ ہے، میں تمہیں دیتا ہوں۔تمہارا حصہ اس معنی میں کہ تمہارے اور بھی بھائی انسان ہیں اور بھی بہنیں انسان ہیں، ان کو بھی دیا تمہیں بھی دیا۔یہ مال و دولت جو میں نے پیدا کیا ہے، تمہارے لئے پیدا کیا ہے۔اس میں سے اپنے اپنے حق ( وہ حق جو میں نے مقرر کئے ہیں ) وہ لے لو۔اور پھر فرمایا کہ اس میں سے اتنا میری راہ میں خرچ کرو۔اور خود ہی راہ اور ضرورت کی تعیین کر دیتا ہے۔یہ ضرورت بھی اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔مثلاً تحریک جدید کی جب ابتداء ہوئی تو اس سے پہلے تو تحریک جدید کے کاموں کے لئے مال کی ضرورت نہیں تھی۔پہلے عام چندہ دیتے تھے یا وصیت کے چندے تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ ایک اور ضرورت پیدا کر دی اور فرمایا، اتنا مال اور میری راہ میں خرچ کرو۔یعنی تحریک جدید کا بھی چندہ دو۔پھر جماعت نے تحریک جدید کے چندے بھی دینے شروع کئے۔پھر وقف جدید کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ایک اور ضرورت پیدا کر دی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اس میں بھی چندے دو۔پھر اس کے بعد علاوہ اور بہت سارے چھوٹے چھوٹے چندوں کے، جن میں جماعت بشاشت سے حصہ لیتی ہے، فضل عمر فاؤنڈیشن کا ایک نیا منصوبہ بنا اور اس طرح ایک اور ضرورت پیدا کر دی گئی۔پھر اس کے بعد نصرت جہاں آگے بڑھو کا ایک منصوبہ بنا اور اللہ تعالیٰ نے ایک اور ضرورت پیدا کر دی۔اور قربانی کی ایک اور راہ کھول دی۔پس اللہ تعالیٰ جتنی ضرورت پیدا کرتا ہے، اتنی ہم سے امید رکھتا ہے کہ اسی کی عطا میں سے اپنے اموال کا ایک حصہ اس کے کہنے کے مطابق اور اس کی پیدا کردہ ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اس کے حضور پیش کر دیا جائے گا۔اس امید پر اور اس تو کل اور بھروسہ پر کہ اللہ تعالیٰ جہاں ہمارے اندرا خلاص پیدا 779