تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 760 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 760

اقتباس از خطاب فرموده 09اکتوبر 1971ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ڈھونڈتے ہیں۔وہ اپنے سمجھوتوں اور معاہدوں کا سہارا ڈھونڈتے ہیں۔بعض قو میں ملا کر ایک گروپ بنالیتی ہیں اور مجھتی ہیں کہ اس طرح انہیں سہارا مل گیا۔لیکن یہ چیزیں سہارے کے لائق نہیں ہیں، ہم ان پر اعتماد نہیں کر سکتے۔ہمارا دل تسلی نہیں پاتا کہ ان سہاروں سے فائدہ اٹھا کر ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں، اس لئے کہ ساری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی وہ کام نہیں کرسکتیں، جو ہمارے سپرد ہے۔لیکن دنیا کی طاقتیں ہمیں نہیں ملیں۔اور ساری دنیا کے اموال بھی وہ کام نہیں کر سکتے ، جو ہمارے سپرد کئے گئے ہیں۔اور دنیا کے اموال بھی ہمیں نہیں ملے۔اور یہ اتنا عظیم کام ہے کہ انسان کے تخیل سے بھی بالا ہے۔جس طرح نشأة اولی کے مسلمان یہ بات دماغ میں بھی نہیں لا سکتے تھے، وہ سوچتے ہوں گے تو دماغ چکراتا ہوگا۔ان کے دماغ میں بھی نہیں آتا تھا کہ چند مٹھی بھر لوگ اسلام کو غالب کیسے کریں گے؟ سرداران مکہ کے ساتھ جو پہلی جنگ ہوئی ، اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین سو اور کچھ مسلمان میدان جنگ میں گئے تھے۔یعنی اسلام کے لئے جانیں قربان کرنے کے لئے اس وقت ساری دنیا میں صرف تین سو اور کچھ مسلمان تھے۔اور سارا عرب ان کے مخالف تھا۔وہ سوچتے ہوں گے، خدا تعالیٰ نے وعدے تو بڑے کئے ہیں مگر ہم چیونٹی کے برابر بھی نہیں۔یہ اگر ہمیں اپنے پاؤں تلے مسلیں تو ہمارا کچھ بھی باقی نہ رہے۔منافق بھی اعتراض کر دیتا تھا کہ بڑے وعدے کئے گئے ہیں لیکن سامان نہیں دیئے گئے۔منافق کی آنکھ ظاہر کو دیکھ رہی تھی ، مومن کی آنکھ باطن پر پڑ رہی تھی۔وہ اپنے اللہ کی قدرتوں کو دیکھتا اور اس کی صفات کو پہچانتا تھا، اس کی قدرتوں پر بھروسہ رکھتا تھا۔اسی طرح آج پھر ہم سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اسلام کو تمام ادیان پر غالب کیا جائے گا۔اور دنیا کی سب قو میں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھجنے لگیں گی اور خدائے واحد و یگانہ کی پرستش ملک ملک شہر شہر اور قریہ قریہ ہونے لگے گی۔دہریت بھی منادی جائے گی اور شرک بھی دنیا سے نابود کر دیا جائے گا۔البتہ جس طرح عجائب گھر میں چیزیں رکھی جاتی ہیں، اسی طرح کچھ انسان ایسے بھی رہیں گے ، جود ہر یہ ہوں گے اور کچھ انسان ایسے بھی رہیں گے، جو مشرک ہوں گے۔مگر ان کی حیثیت ایسی ہوگی، جو عجائب گھر میں نمونہ کے طور پر رکھی جانی والی چیزوں کی ہوتی ہے۔انسان بحیثیت مجموعی اپنے پیدا کرنے والے رب کی طرف واپس آئے گا اور اس کی حمد کے ترانے گانے لگے گا۔یہ وعدہ ہے، جو ہم سے کیا گیا ہے۔لیکن جب ہم غور کرتے ہیں تو اس عظیم بشارت کے نتیجہ میں جس قربانی کا ہم سے مطالبہ کیا گیا ہے، وہ چیز میں اپنے پاس نظر نہیں آتی۔نہ وہ طاقت ہے اور نہ وہ جنتھہ 760