تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 761
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطاب فرموده 109اکتوبر 1971ء ہے اور نہ وہ مال ہے اور نہ وہ وسیلہ ہے۔(یہی ذرائع ہیں، جن کی بناء پر ) انسانی عقل آج ظاہری طور پر یہ سمجھتی ہے کہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاؤں گی۔مگر یہ ذرائع نہیں نہیں دیئے گئے۔دنیا کے یہ اموال ہمیں نہیں دیئے گئے ، دنیا کا اقتدار ہمیں نہیں دیا گیا، نہ اس اقتدار کے لئے ہمارے دلوں میں کوئی محبت اور پیار پیدا کیا گیا۔ہمارے مخالف کو یہ سب کچھ دے دیا۔مثلاً عیسائی پادریوں کے پاس اتنی دولت ہے اور اتنے سامان ہیں اور اسی طرح دہر یہ کمیونسٹوں کے پاس۔اور ان کے مقابلے کا حکم اور ان پر غالب آنے کی ہمیں بشارت۔لیکن سامان ہمارے پاس نہیں۔اپنے ذرائع کو دیکھیں ، اپنی عقل کو دیکھیں، اپنے علم کو دیکھیں ، تب بھی مشکل نظر آتی ہے۔اسلام کا جو دشمن ہے، اس کے ذرائع کو دیکھیں، ان کے جذبے کو دیکھیں کہ لاکھوں پادری اور لاکھوں نز ( عورتیں جنہوں نے باطل کے لئے زندگیاں وقف کی ہوئی ہیں ) ساری دنیا میں پھیل کر اسلام کے خلاف دجل پھیلا رہی ہیں۔اور ہمارے پاس نہ اتنے آدمی ہیں اور نہ اتنے وسائل۔اور جو ہمیں کام کرنا ہے، وہ عظیم الشان ہے۔مثلاً قرآن کریم کی اشاعت ہے۔یورپ میں اور افریقہ میں بھی ، قریباً سارے ملکوں میں ( شاید مسلمان ملکوں کے علاوہ) ہر ملک میں ہر ہوٹل کے ہر کمرے میں بائبل کا ایک نسخہ موجود ہے۔اگر ہم ہر ہوٹل کے ہر کمرے میں قرآن مترجم کا ایک نسخہ رکھنا چاہیں تو اس کے لئے شایدار بوں روپے کی ضرورت ہو۔یہ اور بات ہے کہ اگر ایک ہزار یادس ہزار آدمی اس قسم کے کمرے میں ٹھہریں اور ان میں سے شاید ایک آدمی ہو، جسے بائیل سے دلچسپی ہو۔لیکن جس آدمی کو دلچسپی ہے اور ہو پڑھنا چاہتا ہے، اس کے لئے بائبل اس کمرے میں موجود ہے۔میں یہ کہتا ہوں کہ اگر میں ہزار میں سے ایک شخص ایسا ہو کہ جسے قرآن کریم کے علوم پڑھنے یا انہیں دیکھنے میں دلچسپی ہو اور کسی ہوٹل میں ٹھہرا ہوا ہو تو اس کے لئے قرآن کریم کے نسخے کا وہاں موجود نہ ہونا ، بڑی شرم کی بات ہے۔لیکن ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں۔اور ہمارے وسائل سے باہر کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے ہم پر نہیں ڈالی۔البتہ اس نے ہم سے وعدہ فرمایا ہے کہ جتنا ہم نے تمہیں دیا ہے، طاقت کے لحاظ سے ، ہمت کے لحاظ سے ، عزم کے لحاظ سے، جرات کے لحاظ سے، مال کے لحاظ سے، وسائل کے لحاظ سے، اتنی تم کوشش کر لو۔اس کوشش میں جو فرق رہ جائے گا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، وہ میں پورا کر دوں گا۔اور اس کوشش سے مراد وہ کوشش ہے، جو کامیاب ہونے کے لئے ضروری ہے۔اور اس کوشش سے مراد یہ ہے کہ جو تمہاری طاقت ہے، اتنی کوشش کر دیکھو۔( مطبوعه روز نامه الفضل 03 فروری 1972 ء ) | 761