تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 742
ارشادات فرمودہ 28 مارچ 1970ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم بھی وہاں انتظام ہو جائے گا یعنی کام کرنے اور ڈسپنسری وغیرہ کے لئے ریذیڈنٹ پرمٹ مل جائے گا، اس وقت انہیں فارغ کروائیں گے۔دوسرے دوستوں کو بھی آگے آنا چاہئے۔وہاں لوگوں کی میڈیکل امداد کرنا ، ہمارے احمدیت کے استحکام کے علاوہ ان کا حق ہے۔کیونکہ وہاں ان کو طبی امداد کما حقہ نہیں پہنچ رہی۔ہمارے ملک سے بھی بہت کم انتظام ہے۔آپ اندازہ لگا سکتے ہیں، یہ ہمارے ملک کے اس تھوڑے سے انتظام کے مقابلے میں انہیں شاید ہزارواں حصہ طبی امداد میسر آ رہی ہے“۔تحریک جدید کی رپورٹ میں لٹریچر کی اشاعت کے ذکر پر حضور نے فرمایا:۔لندن سے پرسوں خط آیا ہے، جس سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ٹائمنز آف لندن اور ڈیلی ٹیلیگراف میں اسلامی اصول کی فلاسفی کا اشتہار دیا گیا۔جس کے نتیجہ میں خطوط کے ذریعے تین سو کا پیاں فروخت ہو گئیں۔یہ انگلستان میں ایک لاکھ کی تعداد میں شائع کی گئی تھی۔اس کی مزید اشاعت درکار ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم اس طرف توجہ دیں تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کو ان ممالک میں زیادہ سے زیادہ پھیلا سکتے ہیں۔میں اس سلسلہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس ترمیم کو پیش کرنے والے کو باہر کی جماعتوں اور باہر کے احمدیوں کا شاید علم نہیں ہے۔میرا تاثر تو یہ ہے اور وکیل البشیر صاحب سے بھی میں نے مشورہ کیا ہے۔ان کا بھی یہی تاثر ہے کہ ہمارے پاکستان کے مقابلے میں غیر ممالک کے احمدی قرآن کریم سیکھنے اور اس کا ترجمہ وتفسیر جانے کا بہت زیادہ شوق رکھتے ہیں۔ان کا تو یہ حال ہے، ہمارے جرمنی کے مبلغ نے بتایا کہ ایک نوجوان احمد کی ہوئے ، ان کا رات کے ایک بجے فون آجاتا کہ میں نے اپنے کام سے فارغ ہو کر قرآن کریم کا مطالعہ شروع کیا۔ترجمہ اور تفسیری نوٹوں کے ساتھ اور فلاں آیت پر آکر اٹک گیا ہوں۔اس کا مطلب مجھے سمجھ نہیں آتا۔اگر میں ابھی یہ مطلب سمجھ نہ سکا تو رات کو سو نہیں سکوں گا۔اس واسطے مجھے ابھی یہ بتائیں کہ اس آیت کی کیا تفسیر ہے؟ میں نے بتایا تھا کہ 24 جولائی 67ء کوجو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سویڈن کی ایک بچی احمدی ہوئی تھی، جس کا نام قانتہ رکھا گیا تھا۔پچھلے سال جب سویڈن میں پیدائشی مسلمانوں کے گھرانے احمدی ہوئے تو ان کو یہ خیال آیا کہ بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کا انتظام ہونا چاہیے۔ان پیدائشی مسلمانوں کے پاس کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا ، جو بچوں کو قرآن کریم پڑھا سکے۔تو ہماری اس نو مسلمہ قانتہ بچی نے ، جسے احمدی ہوئے صرف دو سال ہوئے تھے، رضا کارانہ طور پر اپنی خدمت پیش کی اور کہا کہ میں جاتی ہوں اور ان کو پڑھاتی ہوں۔چنانچہ اس سے پتہ لگتا ہے کہ احمدیت نے ان کے دلوں میں قرآن کریم کی بہت زیادہ محبت پیدا کر دی ہے“۔742