تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 743
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ارشادات فرمودہ 28 مارچ 1970ء " آپ میری اس بات کو یادرکھیں کہ جب تک ہم قرآن کریم کو مضبوطی سے نہ پکڑیں ، اسے اپنی جان سے زیادہ عزیز نہ بنائیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کریں، اس وقت تک ہم اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے ، جس مقصد کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے اور جماعت احمدیہ قائم ہوئی۔ہماری کامیابی کے راستے میں آج صرف ایک ہی روک ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ جماعت نے قرآن کریم کے انوار سے وہ حصہ نہیں لیا، جو اسے لینا چاہیے تھا۔جنہوں نے قرآنی انوار سے حصہ لیا ہے، وہ تھوڑے ہیں۔ان میں سے بعض باہر گئے۔استثناء تو ہر جگہ ہوتا ہے۔ان میں سے اکثر زیادہ دعائیں کرتے ہیں۔شاید پھنسے ہوئے ہوتے ہیں۔ہمارا مبلغ اکیلا ایک جگہ چلا جاتا ہے، جہاں چاروں طرف دشمن ہوتے ہیں۔جو د نیوی لحاظ سے بڑے عالم فاضل اور بڑی بڑی ڈگریاں لی ہوئی ہوتی ہیں۔جب ان سے ہمارے مبلغ کا مقابلہ ہوتا ہے تو وہ دعا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ مجھے یہ شبہ پڑتا ہے کہ ہمارا مبلغ غانا میں یا نائیجیریا میں یا سیرالیون میں تو زیادہ دعائیں کر رہا ہوتا ہے مگر جب یہاں آتا ہے تو slack (ست) ہو جاتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ میں تھوڑ اسا آرام کرلوں۔حالانکہ دعائیں کرنے کا جو سبق ہے یا اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے ، جو محنت اور مجاہدہ کرنا پڑتا ہے، اس میں تو آرام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہ تو ہر وقت زندگی کے ساتھ لگا ہوا ہے۔چنانچہ جب ہمارے مبلغ غیروں کے مقابلہ میں دعائیں کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں فہم قرآن عطا کرتا ہے۔جس سے وہ بڑے بڑے لوگوں کو خاموش کر دیتے ہیں۔بلی گراہم جیسا آدمی، جس کو امریکہ کے پریذیڈنٹ نے گھنٹے کی audience دی تھی اور وہ جو دو منٹ کی بات کرنے سے پہلے بڑی خوشامد میں کرواتا ہے اور اس کے ہزاروں کارندے سوچ رہے ہوتے ہیں کہ کسی کو وقت دیا جائے یا نہ دیا جائے۔وہ افریقہ میں آیا اور ہمارے دنیوی لحاظ سے کم عزت رکھنے والے مبلغ نے اس کا مقابلہ کیا اور روحانی میدان میں اس کو مات دی۔اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہمارے مبلغین کی جوعزتیں ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔لیکن دنیا کی نگاہ میں شیخ مبارک احمد ہوں یا مغربی افریقہ کے مبلغ ہوں ، ان کی کوئی عزت نہیں ہے۔در اصل بات یہ ہے کہ یہ ترجمہ کرنا بڑا نازک مسئلہ ہے۔اگر آپ اس بات کی اجازت دے دیں اور اس کی طرف توجہ نہ دیں تو پھر ترجمے سے آگے ترجمہ اور پھر اسے آگے ترجمہ ہوتے رہنے سے مفہوم بالکل ہی بدل جائے گا۔اس لئے اس میں اصول یہ ہونا چاہیے کہ کسی زبان میں ترجمہ، ترجمے سے نہیں ہوگا 66 743