تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 728
تقریر فرمودہ 27 مارچ 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد چہارم شاید چالیس، پچاس ہزار سے بھی زیادہ ہی رسالے شائع کر دیتے۔بہر حال انسانی تدبیر سےتعلق رکھنے والی ہر چیز کچھ وقت لیتی ہے۔ایک تو آپ یہ دعا کریں کہ اگلے جلسہ سالانہ تک ہماری پریس کی یہ سکیم یا تو مکمل ہو جائے اور یا قریباً مکمل ہو جائے۔کچھ وقت تو بہر حال مشینری وغیرہ آنے میں لگے گا۔پھر انہیں کے کہنے کے مطابق کچھ عرصہ کے لئے مکان بنانے میں لگے گا۔ویسے ضرورت بڑی سخت پیدا ہوگئی ہے۔آپ اس بات سے اندازہ لگالیں کہ افریقہ کے صرف ایک ملک سے قرآن کریم کے 20 ہزار نسخے بھجوانے کا آرڈر آ گیا ہے۔اور یہ اس وجہ سے کہ وہاں ہمارا ایک وقار تھا، ان سے تعلقات تھے، کوئی جماعتی خدمات کا اثر تھا، جس کی وجہ سے انہیں یہ خیال پیدا ہوا کہ احمدیوں سے قرآن کریم خریدا جائے۔لیکن یہاں تو ہمارے پاس اپنے بچوں کے لئے قرآن کریم نہیں ہے۔اور ساری خرابی یہ ہے کہ پریس نہیں۔اگر اپنا پر لیس لگ جائے تو ایسی باتوں کی طرف ذہن متوجہ ہو سکتا ہے، جن کی طرف اب نہیں ہو رہا۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے پاس وسائل ہو نہیں ہیں تو دماغ سوچتا نہیں۔اگر وسیلہ ہو پر لیس ہو تو ہمارا دماغ سوچے گا کہ یہ بھی شائع کر دیں۔یہ پریس جس کا نمونہ آیا ہے، اس لئے بھی مجھے پسند آیا ہے کہ اس میں دنیا کی ہر زبان کی ایڈیشن وسکتی ہے۔یعنی ایک اور زبان مثلاً اردو، فارسی، عربی صرف دس ہزار کے خرچ سے اس میں زائد کر سکتے ہیں۔وہ کہتے ہیں، مثلاً جرمن زبان جو ہے، اس کی ایڈیشن پر دس ہزار بھی نہیں لگے گا۔اس کے انگریزی کے حروف سے چند ایک حروف ایسے ہیں، جن کی شکل مختلف ہے۔اسی طرح فرانسیسی کے چند ایک حروف ہیں، جن کی شکل مختلف ہے۔ان کی شائد دو، چار ہزار روپے کے تھوڑے تھوڑے خرچ سے ایڈیشن ہو جائے گی۔اب مثلاً سندھی ہے، گورمکھی ہے، جاپانی ہے، چینی ہے ، دس، دس ہزار روپے آپ خرچ کرتے جائیں اور ایک نئی زبان کی ایڈیشن ہوتی چلی جائے گی۔پس اس وقت ساری دنیا میں فرشتوں کے ذریعہ پیاس پیدا کی جارہی ہے۔ہمیں ساری دنیا کی پیاس بجھانے کے سامان پیدا کرنے چاہئیں۔ہمیں اس پیاس کے بجھانے کے لئے سر توڑ کوشش کرنی چاہئے۔اب مثلاً انڈونیشیا ہے۔انڈونیشیا کی ایک اپنی زبان اور اپنا رسم الخط ہے۔وہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری بہت بڑی جماعت ہے۔لیکن وہاں عیسائیت بھی شوخی دکھا رہی ہے۔اب اللہ تعالیٰ نے انہیں توفیق عطا فرمائی ہے، انہوں نے تفسیر صغیر کی طرز پر تشریحی نوٹوں کے ساتھ قرآن کریم کا انڈونیشین زبان میں ترجمہ کیا ہے۔اور تین جلدوں میں سے پہلی جلد جو سورۃ تو بہ تک ہے، وہ شائع ہو چکی ہے۔یہ جلد پرسوں 728