تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 727
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم تقریر فرمودہ 27 مارچ 1970ء کے نزدیک ضرورت بھی فوری تھی۔اللہ تعالیٰ تو وقت کی قیود سے آزاد ہے۔ہم تو وقت میں بندھے ہوئے ہیں۔اس نے اپنے فضل سے ایک لمحہ میں ساری سکیم میرے ذہن میں ڈال دی۔یعنی یہ کہ اس کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا؟ کتنے میں یہ حکیم پایہ تکمیل کو پہنچے گی ؟ وغیرہ۔میرے دماغ میں یہ ڈالا گیا کہ دس لاکھ روپے میں ایک بڑا اچھا پر میں ابتدا میں قائم ہو سکتا ہے۔پھر تو وہ آگے بڑھے گا۔بہر حال جہاں تک ابتدائی اخراجات کا تعلق ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں کا میں نے جائزہ لیا ہے، کم و بیش دس لاکھ کے اندر بڑا اچھا پر لیس لگ جاتا ہے۔ہم اس سلسلہ میں ضروری معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ہمارا خیال ہے کہ جاپان سے ہمیں نسبتا ستامل جائے گا۔اگر اس سلسلہ میں کسی دوست کو کوئی علم ہو تو وہ ہمیں اپنا مشورہ لکھ کر ( کیونکہ اس وقت غالباً یہ معاملہ زیر غور نہیں ہے۔) ضرور بھیج دے۔اس وقت تک ہم نے یورپ کے بعض ممالک مثلاً انگلستان اور یورپ کے جو اشترا کی ممالک ہیں، ان میں سے بعض ممالک سے بھی اطلاعات منگوائی ہیں۔جاپان کے ساتھ ابھی ہمارا رابطہ قائم نہیں ہوا۔البتہ انگلستان سے پوری تفصیل آگئی ہے۔یعنی پورے پریس کے متعلق یہاں تک کہ جلدیں بنانے والے حصہ وغیرہ کا بھی پتہ لگ گیا ہے۔انشاء اللہ پر لیس قائم ہو جائے گا۔اس کی ان دنوں بڑی ضرورت ہے۔میں تو اس بات کو بڑے قلق سے کہہ رہا ہوں۔مجھے تو اس پریس کے قیام کا ہر وقت خیال رہتا ہے اور اس کی بے حد ضرورت محسوس ہوتی رہتی ہے۔ابھی مجھے خیال آیا کہ جب عرب ممالک کی اتنی توجہ ہے اور اتنی غلط باتیں مخالفین نے پھیلائی ہوئی ہیں، اس لئے ان ملکوں میں کم از کم ایک چھوٹا سا رسالہ، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عربی کتب کے اقتباسات پر مشتمل ہو ، وہ شائع کر دینا چاہئے اور بڑی کثرت سے اسے پھیلانا چاہئے۔چنانچہ یہ چھوٹا سا رسالہ تیار کیا گیا، جو بمشکل چالیس، پچاس صفحات پر مشتمل ہے۔لیکن اس کے متعلق بھی خیال ہے کہ پتہ نہیں دس دن میں چھپتا ہے یا نہیں۔پھر اسے لاہور کے جس پر لیس سے چھپوانا ہے، وہ بھی اتنا اچھا نہیں۔اس میں عربی حروف کے اعراب نہیں لگتے۔میں جب 1938ء میں انگلستان گیا تھا تو کچھ عرصہ کے لئے مصر میں بھی ٹھہرا تھا۔اس وقت میں نے بعض عربی کتب قاہرہ سے خریدی تھیں۔بڑی خوبصورت کتابیں ہیں اور اب تک بڑی خوبصورت لگتی ہیں۔مثلاً ان میں بعض کتابیں ایسی ہیں، جن میں وہاں کے شعراء کا کلام ہے۔بڑے خوبصورت انداز میں چھپی ہوئی ہیں اور معرب ہیں۔یعنی ان پر اعراب لگے ہیں۔38ء کے بعد سے اب تک تو دنیا کہیں سے کہیں پہنچ گئی ہے۔اب جو پریس کے متعلق انگلستان سے پورا ڈھانچہ آیا ہے، اس میں انہوں نے جو عربی رسم الخط کا نمونہ دیا ہے، وہ اتنا خوبصورت ہے کہ اسے دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ اگر اپنا پریس ہوتا تو ہم ایک رات میں 727