تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 598
خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم پس جہاں جہاں بھی ہمارے نظام قائم ہیں، ان کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔میں سمجھتا ہوں کہ نو جوانوں میں سے 30 فیصدی کو اپنے مشوروں میں اور دوسرے جماعتی کاموں میں شامل کریں۔ورنہ انگلی نسل کو یہ پتہ ہی نہیں لگے گا کہ ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ اور انہیں کس طرح نباہنا ہے ؟ اور ذمہ داریوں کو نباہ کر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے انعامات کس رنگ میں اور کن شکلوں میں نازل ہوتے ہیں؟ ہم نے نسلاً بعد نسل خدا تعالیٰ کے فضلوں سے اپنے نوجوانوں کو متعارف کرواتے چلے جانا ہے۔انسان اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے تبھی متعارف ہوتا ہے، جب وہ اللہ تعالیٰ کے لئے قربانی کرتا ہے۔اللہ تعالی بڑا ہی پیار کرنے والا ہے۔وہ جو خلوص نیت کے ساتھ اس کی راہ میں اپنے نفس کو پیش کرتے ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو اس رنگ میں پاتے ہیں کہ انسانی دماغ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔بیسیوں چیزیں ہیں کہ جنہیں ان نعمتوں کو حاصل کرنے والا بیان نہیں کر سکتا۔یعنی اس کو اجازت نہیں دی جاتی کہ وہ بیان کرے۔اس رنگ میں اللہ تعالیٰ فضل کرتا ہے۔ضرورت کے وقت بعض چیزوں کو بتانا بھی پڑتا ہے۔لیکن ایسی بے شمار چیزیں ہیں کہ جن کے بتانے کی نہ ضرورت ہے اور نہ اجازت ہے۔بہت ساروں کی اجازت نہیں ہوتی۔پس یہ جو ہماری نوجوان نسل ہے، اس کو اپنے جماعتی کاموں میں شامل کرو۔تا کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے حصول میں شامل ہوں۔ان کو پتہ لگے کہ قربانیاں ہیں کیا چیز؟ دنیا ہے کیا چیز ؟ دنیا ہمیں ڈرا نہیں سکتی۔کب اور کس نے یہ توفیق پائی کہ اللہ تعالیٰ کے منشاء کے خلاف جماعت احمدیہ کو ہلاک کر دے؟ کسی نے بھی یہ توفیق نہیں پائی۔اسی سال سے دنیا اکٹھی ہو کر ہمیں مٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔میں نے افریقہ والوں سے بھی یہ کہا اور وہ یہ سن کر بڑے خوش ہوئے کہ 80 سال سے ساری دنیا کی طاقتیں اکٹھی ہو کر اس ایک آواز کو خاموش کرنے کے پیچھے لگی ہوئی ہیں، جو یکہ و تہا تھی ، جب وہ آواز اٹھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی لیکن دنیا اسے خاموش نہیں کر سکی۔تمہاری آواز میں اسی آواز کی بازگشت ہیں، جو میں سن رہا ہوں۔اس لئے میں خوش ہوں۔پس ایسا کبھی نہیں ہوگا اور نہ ہو سکتا ہے کہ وہ آواز خاموش کرا دی جائے۔لیکن جو فرداً فرداً اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہوتے ہیں، وہ ہماری Young Generation ینگ جنریشن ) یعنی نو جوانوں کو معلوم ہونے چاہئیں کہ اس میں کیا لذت اور کیا سرور اور کیا مزہ ہے؟ تاکہ وہ ساری دنیا سے بے پرواہ ہو کر اور بے خوف ہوکر قربانیوں اور ایثار کے میدان میں آگے آئیں۔اور وہ کام انجام پائے ، جو مشروط طور پر ہوتا ہے کہ تم قربانی دو گے تو انعام ملے گا۔ورنہ قرآن کہتا ہے کہ اللہ ایک اور قوم کو لائے گا، جو ان نعمتوں کی وارث بنے گی۔پس جو نعمتیں ایک عام اندازہ 598