تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 550 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 550

اقتباس از خطبہ جمعہ 26 جون 1970ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم دارالخلافہ ڈا کار جاتا ہے۔پھر اگر اسے عینک لگی ہوتو وہ واپس آکر جس نمبر کی اسے عینک لگتی ہوتی ہے، اسے لندن خط لکھ کر وہاں سے منگوانی پڑتی ہے۔اور جو عینک یہاں آٹھ ، دس روپے میں بن جاتی ہے، وہاں اس کے اوپر 100 روپے سے بھی زیادہ رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔پس وہاں ایسے علاقوں کے علاقے پائے جاتے ہیں، جہاں کوئی ڈاکٹر نہیں۔کماسی میں ایک پیرا ماؤنٹ چیف کئی سو میل سے مجھے ملنے آیا اور ایک M-P(ایم پی ) کو اپنے ساتھ سفارشی بنا کر لایا۔وہ کہنے لگا کہ ہمارے علاقے میں طبی امداد کا کوئی انتظام نہیں۔آپ ہمارے ساتھ محبت کا سلوک کریں، ہمارے علاقہ میں طبی مرکز کھولیں۔میں نے اس سے وعدہ کیا کہ ٹھیک ہے، کھولیں گے، انشاء اللہ۔ان کے ساتھ جو ایم پی تھا ، وہ کہنے لگا کہ جو دفتری کارروائی ہے، جسے ہم سرخ فیتہ کہتے ہیں، اس کی ذمہ داری میں لیتا ہوں۔ہم وہ قوم نہیں ہیں، جسے اپنی کامیابی کے لئے ملکی قانون توڑنے کی ضرورت پڑے۔ہم ملکی قانون کے پابند رہنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقیات کرتے چلے آتے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے۔کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔کوئی دنیوی طاقت اس کے راستے میں روک نہیں بن سکتی۔پس نو جوانوں کو بھی آگے آنا چاہئے۔وہ نیک نیتی سے اپنے نام پیش کر دیں۔پھر ان میں سے ہم انتخاب کریں گے اور مختلف ملکوں میں ان کے کاغذ بھیجیں گے۔میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ کام اس سال کے اندراندر ہو جائے۔اس طرح وہاں انشاء اللہ بہت سے طبی مراکز کھل جائیں گے۔ویسے ایک طبی امداد کے مرکز کے لئے شروع میں یہ بھی ضروری نہیں کہ وہاں ہم اپنا کلینک بنائیں یا اپنی عمارت ہو۔کوئی مکان کرایہ پر لے کر ہم اپنا کام شروع کر سکتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ توفیق دے گا اور دے رہا ہے، دلوں کے جو بٹوے ہیں، ان کو اس نے کھول دیا ہے۔کیونکہ جب تک دل کا منہ نہ کھلے، اس وقت تک کسی کی جیب کے بٹوے کا منہ نہیں کھلا کرتا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں قربانی کے لئے دلوں کے بٹووں کے منہ کھول دیئے ہیں۔میں نے پہلے بھی کہا ہے اور اب بھی کہتا ہوں کہ مجھے اس بات کی فکر نہیں کہ پیسہ کہاں سے آئے گا ؟ اور آئے گا بھی یا نہیں ؟ پیسہ یقینا آئے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تو جماعت سے قربانیاں مانگ، وہ قربانیاں دے گی۔انگلستان میں بھی میں نے یہی کہا تھا کہ جب خدا تعالیٰ نے میرے منہ سے یہ کہلوایا ہے کہ دس ہزار پاؤنڈ میرے جانے سے پہلے جمع ہو جائیں گے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ جمع نہ ہوں؟ میرے منہ سے جو بات نکلی ہے، خدا تعالی خلافت کی غیرت کی وجہ سے اسے پورا کرے گا۔اور اس نے اپنے فضل سے پورا کر دیا۔یہ اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے۔1927ء کی بات ہے، میں غالبا پہلے بھی بتا چکا ہوں، ایک موقع پر جب 550