تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 551
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه 26 جون 1970ء مجھ سے بارہ ( یہ پادریوں کی ایک ایسوسی ایشن تھی ، اس کے نمائندے اکٹھے ملنے آئے تھے۔تو ایک شخص کے متعلق بے خیالی میں ہی میرے منہ سے نکل گیا کہ تمہیں مذہبی قانون آتا ہے، (وہ پادری جو کج بحثی کر رہا ہے۔تم اسے جواب دو۔میں جواب نہیں دوں گا۔جس وقت میرے منہ سے یہ فقرہ نکل گیا تو فوراً مجھے یہ احساس ہوا کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں کہ اسے مذہبی قانون آتا ہے یا نہیں؟ اگر اس نے آگے سے یہ جواب دیا کہ مجھے مذہبی قانون نہیں آتا تو یہ میرے لئے شرمندگی کا باعث ہوگا۔لیکن ہوا یہ کہ اسے مذہبی قانون آتا تھا۔بعد میں وہ کمال یوسف صاحب سے کہنے لگا کہ میں حیران ہوں، حضرت صاحب کو کیسے پتہ لگ گیا کہ مجھے مذہبی قانون آتا ہے؟ کیونکہ میں اس وفد میں ایک اور آدمی کے بیمار ہو جانے کی وجہ سے عین آخری وقت میں شامل کیا گیا ہوں۔اور میں یہ نہیں سوچ سکتا کہ میرے متعلق علم حاصل کر لیا ہو۔کیونکہ میں وفد آنے سے ایک، دو گھنٹے پہلے شامل ہوا ہوں۔پس وہ حیران تھا۔اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کو اس طرح بھی دکھاتا ہے۔اس نے جب یہ کہا، میں نے خلافت کو اپنی برکتوں اور رحمتوں کے نزول کے لئے قائم کیا ہے تو دنیا جو مرضی جھتی رہے، اپنے یا غیر جو مرضی کہتے رہیں، اللہ تعالیٰ کی برکات اور رحمتیں تو خلافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔وہ اپنے بے شمار فضل جماعت پر نازل کر رہا ہے۔منافق ان فضلوں کو دیکھ کر کڑھتا اور جنتا اور اندر ہی اندر بھتا ہے۔دوسرے مخالفین کو بھی یہی کہا گیا ہے اور منافقین کو بھی یہی کہا گیا ہے۔مُوتُوا بِغَيْظِكُم اس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ تم اپنے غصہ میں جلو، مرو۔اللہ تعالٰی اور اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلوں کو تمہاری کیا پرواہ ہے؟ یہ عظیم نشان جس کے ہزاروں، کروڑوں پہلو ہیں۔یہ عظیم نشان جماعت کے اندر نظر آ رہا ہے۔خدا تعالیٰ اپنی پوری شان کے ساتھ اور اپنی تمام صفات کے جلووں کے ساتھ ہم پر جلوہ گر ہے۔اس واسطے بغض و عناد کے جو دھوئیں ہمارے سامنے آتے ہیں، ان کی حقیقت ایک مردہ مچھر کی بھی نہیں ہے۔اور ہر احمدی کو یہ سمجھنا چاہئے کہ مچھر بھی تو ہمیں آکر کا تا ہے اور بخار چڑھا دیتا ہے۔لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ ہزاروں مچھر کاٹتے ہیں مگر جسے اللہ تعالیٰ زندہ رکھنا چاہتا ہے، اسے زندہ رکھتا ہے۔پس جو الہی سلسلہ کا وجود ہے، کیا وہ مچھروں کے کاٹنے سے نقصان اٹھائے گا ؟ یہ بات تو عقل میں نہیں آتی۔بہر حال اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہورہے ہیں۔ان کے حاصل کرنے کا دروازہ آپ کے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کا موقع آپ کو دے دیا ہے۔آپ اس کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کو حاصل کریں اور اس کے پیار اور اس کی رضا کے وارث بنیں۔یہ دنیا اور اس دنیا کے اموال اور اس کی عزتیں کھلا۔551