تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 549 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 549

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه 26 جون 1970ء کے سارے تو نہیں لیکن بعض اساتذہ یہ مجھتے ہیں کہ وہ گئیں ہانکنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔اور اگر سٹاف روم میں بیٹھ کر گئیں ہانکتے رہیں تو گویا انہوں نے اپنا فریضہ ادا کر دیا۔انہیں بھی شرم آنی چاہئے۔ہمیں بھی شرم آرہی ہے۔جو سات ہزار میل دور جاتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا بھی دی (اس کا دماغ خراب ہو سکتا تھا، جیسا کہ دنیا داروں کا ہو جاتا ہے) لیکن اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے ان کے ذہنوں کو سنبھالا۔وہ بالکل بے نفس ہیں۔یعنی پیسہ ان کومل رہا ہے لیکن آپ یہ محسوس نہیں کریں گے کہ انہیں زیادہ پیسہ مل رہا ہے۔وہ بڑی محنت و اخلاص سے وہاں کام کر رہے ہیں۔طلباء میں اتناؤ سپین ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ہمارے تعلیم الاسلام کالج کے مقابلے میں وہاں کے طلباء میں زیادہ ڈسپلن ہے۔حالانکہ ان میں سے بہت بڑی تعدا د غیر احمدیوں ، عیسائیوں اور مشرکوں کے بچوں کی ہوتی ہے۔عیسائیوں اور مشرکوں میں سے بہت سے ماں باپ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے سکولوں میں اپنے بچوں کو اس لئے داخل کرنا چاہتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں، ہمارے سکولوں میں ان کے بچے خراب نہیں ہوں گے۔لیکن کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا بچہ تعلیم الاسلام کالج میں داخل ہو کر خراب نہیں ہو گا ؟ سوال میں کر دیتا ہوں، جواب آپ خود سوچ لیں۔پھر وہاں بڑی خوبی کی بات یہ ہے، ( کہ یہاں عام طور پر سٹاف کے ممبر آپس میں لڑتے رہتے ہیں مگر وہاں سٹاف کے ممبروں میں غیر احمدی بھی ہیں، عیسائی بھی ہیں اور بعض غیر ملکی بھی ہیں۔لیکن ان میں آپس میں بڑا پیار ہے، کوئی لڑائی جھگڑا نہیں۔بڑی امن کی فضا ہے اور اس پر امن فضا کے پیدا کرنے میں ہمارے یہاں کے پاکستانی اساتذہ کا بڑا حصہ ہے۔جن میں سے ( ساری جگہوں پر تو نہیں لیکن ) بہت سے پرنسپل ہیں۔اللہ تعالٰی نے انہیں بڑے اچھے دل اور دماغ اور جذبات اور احساسات دیئے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں استقامت بخشے اور اپنی برکات سے نوازے۔جوڈا کٹر وہاں اس وقت کام کر رہے ہیں، وہ بھی بہت اخلاص سے کام کر رہے ہیں۔ہمارے ہیلتھ سنٹر ابھی چند ہی ہیں۔مثلاً نائیجیریا میں ہمارے تین ہیلتھ سنٹرز ہیں، ایک گیمبیا میں ہے اور یہاں بہت سارے کھولنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کا جو منشا مجھے معلوم ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ ہمیں پہلے ہیلتھ سنٹرز کھولنے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔کیونکہ یہ بڑا غریب ملک ہے۔اور بیماری میں تو انسان ویسے ہی قابل رحم بن جاتا ہے۔وہ بیمار ہوتے ہیں تو انہیں وہاں کوئی معمولی طبی امداد دینے والا بھی نہیں ہوتا۔میں نے بتایا تھا کہ سارے گیمبیا میں ایک بھی Eye Specialist (آئی سپیشلسٹ ) نہیں۔وہاں جس بیچارے کی آنکھیں خراب ہو جائیں، وہ اپنی آنکھیں دکھانے کے لئے پاسپورٹ لے کر کئی سو میل دور سینیگال کے 549