تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 496
خطبہ جمعہ فرمود و 12 جون 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم مسلمان ہو یا نہ ہو۔اور قرآن کریم نے ساری دنیا میں یہ اعلان کیا ہوا ہے کہ مسجد علامت اور نشان ہے، اس بات کا کہ دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی جائے گی اور انہیں مسمار نہیں کیا جائے گا۔مسلمانوں نے اس پر عمل کیا اور دنیا میں ایک نہایت حسین مثال قائم کی۔ضمناً میں یہ بتا دوں کہ سپین میں ہمارا ڈرائیور انگلستان کا رہنے والا تھا اور وہ کیتھولک نہیں تھا۔چنانچہ ایک موقع پر اس نے یہ کہا کہ ان کیتھو کس نے بین کی سب مساجد مسمار کر دیں۔جو دو، ایک نمونہ کے طور پر رکھیں ، وہ آثار قدیمہ کے طور پر ہیں، مسجد کے طور پر نہیں۔اس نے حیران ہو کر پوچھا کہ کیا آپ کے ملک میں کیتھولک چرچ ہیں؟ جب اس کو بتایا گیا تو وہ کہنے لگا، کیا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ نے ان کیتھولکس کو اجازت دی ہو کہ وہ آپ کے ملک میں اور دوسرے اسلامی ممالک میں چرچ بنائیں اور وہاں وہ اپنی عبادت کریں؟ ہم نے اسے سمجھایا کہ اسلام مذہبی آزادی کی تعلیم دیتا ہے اور بنی نوع انسان کے درمیان ایک نہایت حسین معاشرہ قائم کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ مسجد کی حفاظت کی جائے گی اور مسجد کے طفیل اور مسجد کو علامت اور نشان بنا کر دوسری تمام عبادت گاہوں کی حفاظت کی جائے گی۔مسجدیں محض خود آباد ہی نہیں ہوں گی بلکہ غیروں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کا موجب بھی ہوں گی۔ان میں صرف اللہ کا ذکر ہی نہیں کیا جائے گا بلکہ یہ امید رکھی جائے گی کہ جو لوگ مسلمان نہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں، وہ بھی اپنی عبادت گاہوں کو آباد رکھیں۔مساوات کا جو نمونہ ہمیں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آتا ہے، اس کی ایک ہی مثال میں وہاں مختلف موقعوں پر دیتا رہا ہوں۔اور وہ فتح مکہ کے دن کا واقعہ تھا۔میں نے انہیں بتایا کہ تمہارے میں سے ایک حبشی غلام، مکہ کے جو پیرا ماؤنٹ چیف تھے، ان کا غلام تھا۔اور وہ اس کو نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم کیا اور اس کو اسلام کے نور کی شناخت میسر آئی اور وہ مسلمان ہو گیا۔پہلے نفرت اور حقارت تھی ، اب نفرت اور حقارت کے ساتھ ظلم اور تشد بھی شروع ہو گیا۔ان لوگوں نے اس پر انتہائی ظلم کیا کہ آج بھی اس کی یاد میں ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ایک مسلمان نے اسے خریدا اور آزاد کر دیا۔پھر وہ مسلمان معاشرہ کا ایک محترم اور معزز فرد بن گیا۔فتح مکہ کے روز حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جھنڈا تیار کیا اور آپ نے جھنڈے کا نام بلال کا جھنڈا رکھا۔اور اس کو ایک مقام پر گاڑ دیا۔اور سرداران مکہ سے کہا کہ اگر تم امان چاہتے ہو تو اس شخص کے جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ، جس کو تم نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھا کرتے تھے۔اور جس پر تم بے انتہا ظلم کیا کرتے تھے۔اس طرح پر اس مظلوم بلال کا انتقام لیا۔ایک حسین انتقام، جسے میں انگریزی میں Sweet 496