تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 476
خطاب فرمودہ 07 جون 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم دیکھو! خدمت اسلام کے لئے یا تو رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کرو، ورنہ میں تمہیں حکم دوں گا۔اور وہ تم کو ماننا پڑے گا۔اس لئے اپنے ثواب کو کیوں کم کرتے ہو؟ چنانچہ انہوں نے نام پیش کرنے شروع کر دیئے۔اور وہ FRCP ایف آرسی پی یعنی وہ نوجوان ڈاکٹر ، جو اپنے ملک میں واپس آکر اپنی قوم کی خدمت کے لئے ذہنی طور پر تیار نہیں۔لیکن میں اس کو اچھا نہیں سمجھتا۔ان کو بہر حال یہاں آ کر خدمت کرنی چاہئے۔اگر اس سے زیادہ اچھا موقع نہ ہو تو میرے نزدیک اور آپ کے نزدیک بھی اشاعت اسلام کے لئے جہاں بھی خدمت کا موقع ملے ، وہ نمبر ایک ہے اور قوم کی خدمت نمبر دوم ہے۔کیونکہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کو دنیا میں پھیلانا اور آپ کے نور سے دنیا کے سینوں کو منور کرنا، یہ بہر حال اہم ہے، ایک عام خدمت سے، جو ایک انسان اپنے ملک کی کر رہا ہوتا ہے۔ان کے کئی نام رضا کارانہ طور پر خدمات بجالانے کے لئے مجھے وہاں مل گئے تھے۔ان میں سے کئی تو 500 سے ہزار پونڈ ماہانہ کمارہے ہیں۔میں نے ان سے کہا تھا کہ مجھے ضرورت پڑی تو تمہیں یہ کام چھوڑنا پڑے گا اور خدمت کے لئے آنا پڑے گا۔افریقہ کا یہ حال ہے، سارے گیمبیا میں ایک بھی Eye Specialist (آئی اسپیشلسٹ) نہیں ہے۔اگر کسی نے آنکھ ٹیسٹ کروانی ہو تو اسے سینیگال جانا پڑتا ہے۔پھر عینک بنوانی ہو تو لندن خط لکھنا پڑتا ہے۔یہاں جو عینک دس، بارہ روپے میں مل جاتی ہے، وہاں بیچارے غریب آدمی کو پانچ پونڈ خرچ کرنے پڑتے ہیں۔اور اسے کئی مہینے انتظار بھی کرنا پڑتا ہے۔غرض سارے ملک میں ایک بھی آئی اسپیشلسٹ نہیں ہے۔میں نے ان کی حکومت کو کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ہمارے بڑے اچھے ڈاکٹرز ہیں، میں ان میں سے کسی کو کہوں گا کہ وہ تمہارے ملک میں آجائے۔تو وہ بڑے خوش ہوئے۔اسی طرح سارے ملک میں کوئی ڈینٹسٹ نہیں ہے۔جس بیچارے کا دانت ٹوٹ جائے ، مرتے دم تک ٹوٹا ہی رہتا ہے، عارضی انتظام نہیں ہو سکتا۔ٹی بی کی مرض عام ہے اور صرف باتھرسٹ کے ہسپتال میں ایک ڈاکٹر اور ایک ٹی بی یونٹ ہے۔اور وہ غیر ملکی ہے اور بارہ مہینے میں سے چھ مہینے ملک سے باہر رہتا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ چھ مہینے ٹی بی کا علاج کرنے والا وہاں کوئی نہیں ہوتا۔میں نے ان کو کہا کہ تم ہمارے ساتھ دو باتوں میں تعاون کرو۔ایک ہمیں زمین دو، کیونکہ زمین ہم باہر سے نہیں لا سکتے۔یہ تمہیں دینی پڑے گی اور دوسرے آدمیوں کی پرمٹ دو۔کیونکہ اس کے بغیر وہ نہیں آسکتے۔چنانچہ وہ بڑے خوش ہوئے اور انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا کہ زمین دیں گے۔لائبیریا میں پریذیڈنٹ ٹب میں نے سوایکٹر زمین دینے کا وعدہ کیا ہے۔وہاں دو دفعہ وہ اپنے محکموں کو میری اطلاع کے مطابق کہہ چکے ہیں کہ جلدی ان کے لئے انتظام کیا جائے۔وہاں تو سوا سیکٹر میں 476