تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 22 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 22

خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1966ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم جماعتوں کے وعدوں میں دس ہزار کی کمی ہے۔سرگودھا کی جماعتوں کے وعدوں میں پانچ ہزار کی کمی ہے۔لائل پور ضلع کی جماعتوں کے وعدوں میں چھ ہزار کی کمی ہے۔گجرات ضلع کی جماعتوں کی طرف سے ابھی تک چھ ہزار کے وعدے کم وصول ہوئے ہیں۔ملتان ضلع کی جماعتوں کے وعدوں میں ابھی پانچ ہزار کی کمی ہے اور حیدر آباد ڈویژن کی جماعتوں کے وعدے بھی ابھی ساڑھے پانچ ہزار کم وصول ہوئے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ میں امید رکھتا ہوں کہ اس سال گزشتہ سال کی نسبت وعدے بھی زیادہ ہوں گے اور وصولی بھی زیادہ ہوگی۔لیکن جو دوست وعدے لکھوانے میں ستی سے کام لیتے ہیں، وہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔اور وہ اس طرح کہ اسلام نے ہمیں بتایا ہے، اللہ تعالٰی مومن کی نیت پر بھی ثواب دیتا ہے لیکن اس نے ہمیں کہیں نہیں بتایا کہ انسان کی خالی خواہشات پر ثواب ملتا ہے۔اور جہاں تک تحریک جدید کے وعدوں اور ان کی وصولی کا سوال ہے، نیت اس وقت سے شروع ہوتی ہے، جب کوئی شخص اپنا وعدہ لکھوا دیتا ہے اور پھر دل میں پختہ عہد کر لیتا ہے کہ وہ موعودہ رقم تحریک جدید میں دے گا۔لیکن جو دوست وعدہ لکھوانے میں پندرہ دن ، ایک ماہ یا دو ماہ ستی سے کام لیتے ہیں، وہ اس عرصہ میں اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے فضل کے ایک حصہ سے محروم کر رہے ہوتے ہیں۔خدا تعالی کا جو فضل وہ پندرہ دن، ایک ماہ یا دو ماہ بعد میں لینا شروع کرتے ہیں، اس فضل کے وارث وہ پندرہ دن، ایک ماہ یا دو پہلے کیوں نہیں بنتے۔پس اگر وہ اس طرف توجہ نہیں کرتے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔پھر اپنا دوسرا نقصان وہ یہ کرتے ہیں کہ انسان کی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔اسے کوئی پتہ نہیں ہوتا کہ اس نے کب اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے؟ زندگی اور موت کا مسئلہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔بعض اوقات ایک انسان چنگا بھلا ہوتا ہے، وہ ہنستا کھیلتا ہوتا ہے لیکن ایک سیکنڈ کے بعد وفات پا جاتا ہے۔اگر آپ تحریک جدید کے وعدے لکھوانے میں بستی سے کام لیتے ہیں تو کتنا خطرہ مول لے رہے ہیں۔آپ کو کیا معلوم کہ اس عرصہ میں آپ نے زندہ رہنا ہے یا وفات پا جاتا ہے؟ اگر آپ اس عرصہ میں وفات پا گئے تو اخروی زندگی میں جو تو اب اس چندہ کے دینے کی نیت سے حاصل ہو سکتا ہے، اس سے محروم ہو گئے۔تیسرا نقصان جو وعدے جلد نہ لکھوانے کی وجہ سے آپ کو پہنچتا ہے۔یہ ہے کہ اگر اس سال مثلاً وعدے لکھوانے کی تاریخ 28 فروری ہو اور اس تاریخ تک جیسا کے دفتر کا معمول ہے، دفتر والے خطوط کے ذریعہ پھر رسالوں یا اخباروں میں مضامین لکھ کر یا گشتی چھٹیوں کے ذریعہ آپ کو اس طرف متوجہ کرتے ہیں۔لیکن اس کے باوجود جو دوست اس تاریخ تک اپنے وعدے نہیں لکھواتے۔انھیں یاد دہانی کرانے پر 22