تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 23
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1966ء دفتر جوز ائد اخراجات برداشت کرے گا، وہ بہر حال ناواجب ہوں گے۔اور ایسے اخراجات کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہوگی، جنہوں نے مقررہ تاریخ تک اپنے وعدے نہیں لکھوائے۔فرض کرو یہ زائد خرچ کل وعدوں کا دو فیصدی ہے تو اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ سوروپے کے ثواب کی بجائے وعدہ دیر سے لکھوانے والے کو دو کم سو کا ثواب نہ دے۔کیونکہ دو روپے کا زائد خرچ محض اس کی ستی کی وجہ سے مرکز نے برداشت کیا ہے۔شاید اللہ تعالیٰ یہ کہے کہ تمہاری وجہ سے سلسلہ کو دوروپے کا نقصان ہوا ہے، اس لیے ہم تمہارے ثواب سے اسی قدر کم کر دیتے ہیں۔غرض دفتر کو جوز ا ئد اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں، وہ محض آپ کی سستی کی وجہ سے برداشت کرنے پڑتے ہیں۔اگر آپ وقت مقررہ پر وعدے لکھواد میں اور پھر جلد رقم ادا کر دیں تو دفتران زائد اخراجات سے بچ جاتا ہے۔- چوتھا نقصان آپ کو اور سلسلہ کو یہ اٹھانا پڑتا ہے کہ اگر آپ وعدہ لکھوانے میں سست ہیں تو چاہیے بعد میں آپ اپنا وعدہ لکھوا بھی دیں اور اس میں زیادتی بھی کر دیں ، تب بھی ان مزید اخراجات کی وجہ سے جو دفتر برداشت کرے گا، بہت سے ضروری کاموں میں زائد اور نا واجب اخراجات کسی حد تک ہوں، کمی کرنی پڑتی ہے۔کیونکہ آپ نے کل رقم میں سے، جس سے یہ کام کیے جانے تھے، کچھ روپیہ زبردستی نکال لیا اور ڈاک اور یاد دہانی کے دوسرے ذرائع پر ضائع کر دیا۔اس نقصان کے آپ ذمہ دار ہیں۔اور آپ سے مراد میری ان لوگوں سے ہے، جو وعدہ بھی لکھواتے ہیں اور رقوم بھی ادا کرتے ہیں اور بڑی بشاشت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں اس کا ثواب عطا فرمائے۔) لیکن اپنی سستی کی وجہ سے وہ نقصان اٹھا لیتے ہیں۔اور میرا فرض ہے کہ میں اس قسم کے لوگوں کو ان کی سستیوں کی طرف توجہ دلاؤں تا ثواب کے سلسلہ میں انہیں ایک دھیلے کا گھانا بھی نہ اٹھانا پڑے۔پانچواں نقصان جو جماعت اور سلسلہ کو محض آپ کی سنتی کی وجہ سے برداشت کرنا پڑتا ہے، وہ یہ ہے کہ وکالت مال کو مثلاً 28 فروری تک وعدے لکھوانے کے لیے کوشش اور جدو جہد کرنی پڑے گی اور جماعتوں کو اس طرف توجہ دلانی پڑے گی۔اب اگر 28 فروری تک اس کی تگ و دو اور کوشش کے نتیجہ میں سارے دوست اپنے اپنے وعدے لکھوا دیں تو اس تاریخ کے بعد وکالت مال دوسرے کاموں کی طرف متوجہ ہو سکے گی اور اسے کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔لیکن اگر آپ مقررہ میعاد کے اندر اپنے وعدے نہیں لکھوائیں گے تو آپ کی سستی کے نتیجہ میں کام کرنے والوں کو پریشانی ہوگی۔اور آپ میں سے کوئی بھی یہ پسند نہیں کرے گا کہ اس کی وجہ سے ان واقفین زندگی کو جو مرکز میں بیٹھ کر خدمت دین بجا لا رہے ہیں، کسی 23