تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 21
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1966ء خدا خود میشود ناصر اگر ہمت شود پیدا خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1966ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔وکالت مال تحریک جدید نے مجھے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ سال رواں کے وعدوں کی رفتار تسلی بخش نہیں۔اور ان کا تاثر یہ ہے کہ پہلے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سال کے شروع ہی میں اپنے دو، ایک خطبوں میں جماعت کے افراد کو اس طرف توجہ دلا دیتے تھے۔آپ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کی برکات کی وضاحت فرما دیتے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی وجہ سے انسان کو جو دینی اور دنیوی فوائد حاصل ہوتے ہیں، وہ دوستوں کے سامنے رکھ دیتے۔اس طرح جماعت کے دوست بڑی جلدی اپنے وعدے لکھوا دیتے اور دفاتر کی پریشانی دور ہو جاتی تھی۔لیکن اپنی بیماری کے آخری سالوں میں چونکہ حضور اس طرف اپنے خطبات میں جماعت کو توجہ نہیں دلا سکے، اس لئے جماعت میں آہستہ آہستہ یہ ستی پیدا ہوگئی ہے کہ اگر چہ احباب اب بھی پہلے کی نسبت اضافے کے ساتھ وعدے لکھواتے ہیں اور رقوم، جو وصول ہوتی ہیں ، وہ بھی زیادہ ہوتی ہیں لیکن وہ اس طرف فوری طور پر توجہ نہیں کرتے۔اس لئے مرکز کو کئی ماہ تک پریشانی میں رہنا پڑتا ہے۔انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا ہے کہ گزشتہ سال گو پہلے کی نسبت وعدوں میں زیادتی ہوئی ہے لیکن جون کے آخر تک وعدے آتے رہے۔حالانکہ وعدوں کی آخری تاریخ اس سے کہیں پہلے ختم ہو چکی تھی۔اس سال بھی وعدوں کی وصولی کی تاریخ 28 فروری ہے۔لیکن بہت سے افراد اور بہت سی جماعتیں ایسی ہیں ، جن کی طرف سے ابھی وعدے وصول نہیں ہوئے۔موٹی موٹی جماعتیں، جن کی طرف سے وعدے وصول ہونے میں اس سال تاخیر ہوئی ہے اور غالبا یہ نام بطور مثال کے ہیں۔یہ ہیں، ان میں پہلی جماعت ربوہ ہے۔گزشتہ سال یعنی تحریک جدید دفتر اول کے اکتیسویں اور دفتر دوم کے اکیسویں سال میں جماعت ربوہ کے وعدے اکسٹھ ہزار روپے کے تھے اور سال رواں میں یعنی تحریک جدید دفتر اول کے بتیسویں سال اور دفتر اول کے بائیسویں سال کے وعدے صرف 40 ہزار کے وصول ہوئے ہیں۔گویا ان میں ابھی اکیس ہزار کی کمی ہے۔اسی طرح سیالکوٹ ضلع کی 21