تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 342 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 342

اقتباس از تقریر فرموده 09 اپریل 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اور بڑی بد بخت ہوگی وہ قوم، جو کچھ قربانی دینے کے بعد اس کے نتائج سے کلی طور پر محروم کر دی گئی ہو۔کچھ قربانی تو ہم بہر حال دے چکے ہیں اور اگر ہم پوری قربانی نہیں دیں گے تو جتنی قربانی ہم نے دی ہے ، ہماری بعد کی بداعمالیاں ، بستیاں اور غفلتیں اس کو بھی ملیا میٹ کر دیں گی۔اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔پس ہمیں بہت چوکس رہ کر بڑی قربانی کے ساتھ اور انتہائی اخوت اور محبت کے ساتھ زندگی کے دن گزارتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو نباہنا چاہیے۔وو غرض ہم پر بڑی ذمہ داریاں ہیں اور کچھ اور ذمہ داریاں ہم پر پڑنے والی ہیں۔اگر ہم بحیثیت جماعت بھاری اکثریت کو اس بات کے لئے تیار کر لیں کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو نہا ہیں گے تو ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔مثلاً ایک نسل سنیما نہیں دیکھے گی تو دنیا میں کیا اندھیر آجائے گا؟ اگر یہ نسل دنیا کی لذتوں اور دنیوی شیخیوں سے اپنے آپ کو بچالے گی تو میرے خیال میں یہ کوئی بڑی قربانی نہیں اور اس نسل کو کوئی بڑا نقصان بھی نہیں۔پھر اس کے بدلہ میں خود اس نسل کو جو روحانی لذت اور سرور ملے گا، اس کا دنیوی لذات اور سرور کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں۔اور اس کے نتیجہ میں جو جائز آرام اور جو جائز لذتیں اور جو جائز سرور اس دنیا کے ہیں، وہ اس نسل کی نسلوں کو اس طریق پر ملیں گے کہ دنیا کی کسی اور و قوم کو وہ چیزیں ملی ہی نہیں ہوں گی۔اب دیکھو یہ کتنا بڑا انعام ہے، جو ہمارے سامنے ہے۔کیا چیز ہے، انسان کی یہ چالیس یا پچاس سالہ زندگی؟ جس کے آخر میں وہ تمام انعامات مجھے کھڑے نظر آ رہے ہیں، جن کا وعدہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیا گیا ہے۔اگر ہمارے قدم ست ہو جائیں، اگر ہم بشاشت کے ساتھ آگے نہ بڑھیں تو پھر اگر ہم اس طرح چل رہے ہیں تو ایک جگہ پر خدا تعالی کا غضب ہم پر نازل ہوگا اور ہم اپنی بستیوں کے نتیجہ میں وہیں رہ جائیں گے اور ایک اور قوم ادھر سے آئے گی، ادھر سے آئے گی اور وہ اس راستہ پر چل پڑے گی، جس پر ہمیں چلنا چاہئے تھا۔اور اس جگہ پہنچ جائے گی ، جہاں انہیں انعام ملنے ہیں۔رپورٹ مجلس شوری منعقدہ 0907 اپریل 1967ء) 342