تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 341 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 341

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم وو اقتباس از تقریر فرموده 09 اپریل 1967ء ہم نے دنیا میں ایک مثالی معاشرہ کو قائم کرنا ہے تقریر فرمودہ 109اپریل 1967ء برموقع مجلس مشاورت بات یہ ہے کہ یہ مجھ لینا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کے بعد جو کچھ ہونا تھا، ہو گیا۔یہ غلط ہے۔ہم نے دنیا میں ایک مثالی معاشرہ کو قائم کرنا ہے۔دنیوی لحاظ سے بھی ، جسے دنیا دیکھتی ہے اورسمجھ سکتی ہے اور روحانی لحاظ سے بھی ، جسے نہ دنیا دیکھتی ہے اور نہ سمجھ سکتی ہے۔ہم نے ان کو سمجھانا بھی ہے اور دکھانا بھی ہے۔اس کے لئے جذبات کی قربانی بھی کرنی پڑے گی، اس کے لئے عادات کی قربانی بھی کرنی پڑی گی، اس کے لئے اموال کی قربانی بھی کرنی پڑے گی ، اس کے لئے غلط قسم کے رسم و رواج کو بھی، جو ہمارے اندر رواج پاگئے ہیں، چھوڑنا پڑے گا، اس کے لئے نیندوں کی قربانی بھی کرنی پڑے گی، اس کے لئے شاید ہمیں بھوکا رہ کر دوسروں کو کھانا کھلانا پڑے گا، اس کے لئے بیدار رہ کر راتوں کی نیند اپنے اوپر حرام کر کے دوسروں کے لئے میٹھی نیند کا سامان کرنا پڑے گا۔بہر حال ہم نے بہت کچھ کرنا ہے۔اب ہم اس دور اور اس زمانہ میں سے گزر رہے ہیں، جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ہمیں آخری شکل میں فتح نصیب ہو جائے گی اور پھر اسلام ساری دنیا میں حقیقی احمدیت کی شکل میں غالب آچکا ہوگا۔اس کا قریباً 1/3 حصہ گزر چکا ہے اور آخری 1/3 حصہ عام طور پر اس قسم کا نہیں ہوتا ، اپنے کام کے لحاظ سے بھی اور اپنی قربانیوں کے لحاظ سے بھی۔اصل ذمہ داری کے ساتھ انتہائی قربانیاں دینے کا زمانہ، یہ درمیان کا 1/3 ہی ہوا کرتا ہے۔غرض ہم اس زمانہ میں داخل ہو رہے ہیں، جس میں اللہ تعالیٰ ہم سے انتہائی قربانی لینا چاہتا ہے اور اس زمانہ کے تقاضا کے مطابق ہمیں قربانیاں دینی پڑیں گی اور دینی چاہئیں۔اگر ہم یہ قربانیاں نہیں دیں گے تو اللہ تعالیٰ ایک اور قوم لے آئے گا۔کیونکہ خدا تعالی کا جو وعدہ ہے، وہ تو بہر حال پورا ہو کر رہنے والا ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر کوئی اور قوم ہماری جگہ آگئی تو جو بشارتیں بنعمتوں کے وعدے، اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب کے وعدے، ہمیں ملے ہیں ، وہ ہمیں نہیں ملیں گے۔ہم خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل نہیں کر سکیں گے، ہم خدا تعالیٰ کے قرب کو نہیں پاسکیں گے، خدا تعالی کی نعمتیں اور بشارتیں ہمیں نہیں ملیں گی بلکہ ایک اور قوم ان کی وارث بن جائے گی۔341