تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 269 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 269

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم Come back to your creator۔خطبہ جمعہ فرمودہ 15 ستمبر 1967ء جس نے تمہیں پیدا کیا ہے، اس کی طرف تم رجوع کرو۔اسلام ایک حسین ترین تعلیم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے ایک محسن عظیم ہیں، ان کو پہچانو اور اس تعلیم کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی کوشش کرو۔تو یہ سب کچھ تقریر میں ساری تفصیل سے تو آنا نہ تھا، اگر میں وہاں تقریر کر دیتا۔انہوں نے اسے ترجمہ کرنا تھا کیونکہ وہ انگریزی زبان بولنے والے نہیں تھے۔(انگلستان کے اخباروں میں ابھی نہیں آیا ) تو اب ساری زبانوں میں انشاء اللہ ترجمہ ہو کے اللہ کا یہ پیغام گھر گھر پہنچ جائے گا۔اسی کی توفیق سے اللہ تعالیٰ نے بڑا احسان کیا ہے، سارے دلوں کو اس طرف پھیر دیا۔پانچواں سلسلہ احسانوں کا ، جماعت کی تربیت ہے۔میرے جانے کا ایک مقصد یہ بھی تھا۔وہاں دو قسم کے احمدی ہیں۔ایک مقامی اور ایک اردو بولنے والے، یہاں سے گئے ہوئے اور بعض ہندوستان سے آئے ہوئے ہیں لیکن اکثریت پاکستانیوں کی ہے۔ان میں سے ننانوے فی صدی وہ ہیں، جن کو کچھ علم نہیں تھا، اس قیامت کا، جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت جماعت پر گزری۔کیونکہ وہ یہاں نہیں تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے جماعت کو سنبھالا اور ایک ہاتھ پر متحد کر دیا۔وہ ہاتھ بے زور اور کم طاقت کا تھا۔لیکن خدا نے کہا کہ جتنا بوجھ مرضی ہے پڑے، گھبرانا نہیں۔کیونکہ اس ہاتھ کے نیچے میرا ہاتھ ہے۔اور جو کہا، اس وقت وہ کر دکھایا۔میں چاہتا تھا کہ یہ لوگ مجھ سے ملیں ، باتیں سنیں اور بہت سی غلط فہمیاں یا غلط خیال، جو عدم علم کی وجہ سے پیدا ہو جاتے ہیں، وہ دور ہو جائیں۔اگر خدا چاہیے تو پھر یہ کہ میں ان کو جانوں کہ وہ کس قسم کے احمدی ہیں، خصوصاً جوان ملکوں کے باشندے ہیں؟ تو جہاں تک ان لوگوں کو دیکھنے کا مجھے موقع ملا، میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا اتنا عظیم احسان ہے کہ صرف ایک احسان کا بھی ہم شکر ادا نہیں کر سکتے۔حالانکہ وہ بے شمار احسانوں میں سے ایک احسان ہے۔وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی مخلص جماعتیں پیدا ہو چکی ہیں، جن کے ذہن ہی مسلمان اور احمدی نہیں بلکہ ان کے دل اور ان کی روح اور ان کے جسم کا ذرہ ذرہ احمدیت میں یوں رچ گیا ہے، انگریزی میں کہتے ہیں، سیچوریشن پوائنٹ (Saturation Point) اس پوائنٹ تک احمدیت ان کے اندر پہنچ چکی ہے۔گوروحانی دنیا میں سیچوریشن پوائنٹ (Saturation Point) کبھی نہیں آتا۔مطلب یہ ہے کہ اس وقت وہ اعلیٰ اور ارفع مقام پر ہیں۔جیسے اعلیٰ ترقیات کے دروازے ہر ایک کے لئے کھلے ہیں ، اس کے لئے کوئی انتہا نہیں۔اتنی عظیم محبت کرنے والے اپنے اللہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے، 269