تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 268 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 268

خطبہ جمعہ فرمود : 15 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم پھلکی تقریر ہونی چاہئے، کوئی لطیفے یا اور لطائف کے اندر کوئی کام کی بات کر دی اور مختصر۔لیکن چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب سے میں نے مشورہ کیا، میں نے کہا کہ یہ ایک موقع ہے، جو پھر ہاتھ نہیں آئے گا اور اس مضمون کو میں پڑھنا ضرور چاہتا ہوں۔یہ میری اپنی کوشش کا نتیجہ نہیں ، اللہ تعالیٰ کے فضل سے تیار ہوا ہے۔ان کو یہ مضمون میں نے رات کو دے دیا۔اگلے دن انہوں نے کہا، میں نے پڑھا ہے، آپ اسے ضرور پڑھیں۔خیر وہ مضمون جب میں نے پڑھا ہے تو آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ سنے والوں پر وہ مضمون کیا اثر کر رہا تھا۔ہمارے ایک احمدی ہیں۔ان کی ساری عمرولایت میں ہی گزری ہے۔پارک کارنر میں، جہاں بہت ملف آدمی تقریر کر سکتا ہے، لفنگے آدمی بھی وہاں جمع ہوتے ہیں اور تمسخر اور استہزاء اور اعتراض عجیب عجیب وہاں ہوتے رہتے ہیں، وہاں کھڑے ہو کے دلیری کے ساتھ تقریر کرنے والے ہیں۔کہنے لگے کہ آپ تقریر کر رہے تھے اور مجھے پسینہ آ رہا تھا۔اور کہنے لگے کہ ایک انگریز میرے پاس بیٹھا تھا، شروع میں حیرت سے اس کا منہ کھلا اور پھر پینتالیس منٹ تک کھلا ہی رہا۔ایک فقرہ کے بعد دوسرا فقرہ اسی قسم کا آجاتا تھا۔اب وہ یہاں چھپ گیا ہے۔وہاں انگلستان والوں نے ایک دن میں رقم اکٹھی کر کے پچاس ہزار کا انتظام کر لیا تھا، اس کی اشاعت کا۔اور وہ پچاس ہزار وہاں شائع ہو چکا ہے۔میں نے انہیں کہا تھا کہ کچھ باہر کے لئے بھیج دیں۔سارے ہیڈ ماسٹر ز کو، سارے M۔P۔S کو، بڑے بڑے بشیر کو اور بڑے بڑے کلارجی (Clergy) کو ، سارے لارڈ زکو اور اس طرح انہوں نے ساڑھے سات ہزار پتے منتخب کر کے ان پتوں پر وہ بھجوا دیئے ہیں۔اور باقی وہ انتظام کر رہے ہیں۔پھر اس کا جرمن میں ترجمہ ہو چکا ہے۔پہلے تو وہ راضی نہیں تھے۔اور پہلے اس وقت سارا تو اخباروں نے شائع نہیں کرنا تھا، اب پورا مکمل شائع ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی شاید یہی حکمت ہو۔جرمنی کے گھر گھر میں پہنچانے کا میں نے ان کو پروگرام بتایا ہے۔اسی طرح سوئٹزر لینڈ، ہالینڈ ، سارے ملکوں میں، ساری زبانوں میں ترجمہ ہو کے وہ وہاں تقسیم کیا جائے گا۔اور ایک دفعہ پوری طرح اتمام حجت کرنے والا، بات یہ ہے کہ جس وقت میں یہاں سے گیا تو سوچ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے بندے جب دنیا کی طرف مبعوث ہوتے ہیں تو ان کے دو کام ہوتے ہیں۔ایک بشیر کی حیثیت سے، ایک نذیر کی حیثیت سے۔بہت سی انذاری پیشگوئیاں دی جاتی ہیں اور جماعت کا یہ فرض ہوتا ہے کہ علی الاعلان اور بغیر ڈرے دنیا میں وہ پھیلائیں اور تمام دنیا پر اتمام حجت کریں کہ اگر تم نے اپنی اصلاح نہ کی تو اللہ تعالیٰ کے یہ انذاری وعید ہیں تمہارے متعلق تم تباہ ہو جاؤ گے۔اور اگر تم ان سے بچنا چاہتے ہو تو تو بہ کرو۔فقرہ تو میں یہی بولتا تھا۔268