تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 270
خطبہ جمعہ فرمود و 15 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم سلسلہ سے، خلیفہ وقت سے کہ آدمی دیکھ کے حیران ہو جاتا ہے۔اتنی دور بیٹھے ہوئے ، یہ لوگ ذاتی طور پر کوئی واقفیت نہیں رکھتے اور ان کے دل ہیں کہ ایک محبت کا سمندر ہے، جوان میں موجیں مار رہا ہے۔کیا یہ الہی تصرف کے بغیر ممکن ہے؟ ہر گز نہیں۔ایک آدمی کے دل میں آپ اپنا پیار اور محبت پیدا نہیں کر سکتے۔بعض دفعہ ایک شخص ایک آدمی کے دل میں بھی محبت اور پیار پیدا نہیں کر سکتا۔کتنے خاندان ہیں کہ جو خاوند ہیں، اپنی بیوی کے دل میں اپنا پیار پیدا نہیں کر سکتے اور اس طرح اپنی زندگی کو بگاڑ لیتے ہیں۔لیکن یہاں یہ نظارہ ہے کہ لاکھوں آدمی ہیں کہ ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت کے ساتھ ، امام وقت کی محبت بھی پیدا ہوگئی۔اور وہ ایک دل ہے، جس میں پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پیار اور محبت کے کتنے سمند رسما دیئے ہیں۔ہر ایک کے لئے ویسا ہی پیار وہاں پیدا کر دیا۔یہ ایک عظیم معجزہ ہے اور ایسا عظیم احسان ہے کہ اس احسان کو دوسروں کے لئے پہچانا بھی ممکن نہیں ہے۔آج ہمیں یہ سمجھ آتی ہے کہ صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دلوں میں وہ محبت کیسے پیدا ہوئی ؟ اللہ تعالیٰ نے خود پیدا کر دی تھی۔(اور دوسرے اس کو سمجھ نہیں سکتے۔ان کی فدائیت اور ایثار کے کارنامے جب ہم پڑھتے ہیں تو عقل کے نزدیک ان کی کوئی ایکسپلینیشن (Explanation) نہیں۔عقل نہیں بتا سکتی کہ ایسا کیوں ہوا؟ جب کئی لاکھ کی فوج کے مقابلہ پر گنتی کے چند درجن ، وہ جو آخری فتح ہوئی ہے، قیصر کے خلاف۔خالد بن ولید کی فوج کسی نے پچیس ہزار کسی نے تھیں ہزار، کسی نے چالیس ہزار، کسی نے بیس ہزار لکھی ہے۔تاریخ دانوں میں اختلاف ہے۔میں اس اختلاف میں نہیں جاتا۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ فوج سے حملہ کروانے سے پہلے انہوں نے کچھ نو جوانوں کو اکٹھا کیا تھا۔جن میں عکرمہ بھی شامل تھے اور ان کو کہا تھا کہ ساری عمر تم اسلام کی مخالفت کرتے رہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ پہنچاتے رہے، آج موقع ہے، اپنے سارے دھبے جو ہیں، وہ دھولو۔اور ان گنتی کے چند آدمیوں نے لاکھوں کی فوج پر حملہ کیا تھا۔اور دراصل ان لوگوں کے حملہ کی وجہ سے ہی ان لوگوں کے دلوں پر یہ رعب پیدا ہوا تھا۔جس کی وجہ سے انہوں نے شکست کھائی اور جتنی مسلمان فوج تھی ، اس سے کہیں زیادہ مقتول اور لاشیں میدان میں چھوڑ کر وہاں سے بھاگے۔تو محبت کے یہ عظیم کارنامے صفحہ تاریخ پر کیسے ابھرے؟ عقل اس کا جواب نہ دے سکتی تھی۔آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل ہم اپنے دلوں میں جو محبت محسوس کرتے ہیں ، اس نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ یہ معجزانہ مل جو ہیں، وہ کس طرح اور کیوں ظہور پذیر ہوتے ہیں؟ یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا 270