تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 249
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطاب فرمودہ 10 ستمبر 1967ء ہے، اس وقت تک یہ دونوں وجود علیحدہ نہیں ہوتے۔گوجسم دو مختلف ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر دل ایک ہی دھڑک رہا ہوتا ہے۔ان میں آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔سوائے منافق کے دل کے اور منافق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی موجود تھے اور اب بھی ہیں۔اور وہ الہی سلسلوں کے ساتھ ہمیشہ رہتے ہیں۔ان منافقوں کو اگر ہم چھوڑ دیں تو ساری جماعت اور خلیفہ وقت دونوں ایک ہی وجود ہیں۔جب میں اپنے رب کے فضلوں، اس کی رحمتوں ، اس کی نعمتوں کو بارش کے قطروں کی طرح نازل ہوتے دیکھتا تھا تو میں یہ نہیں کہتا تھا کہ اے میرے رب تو نے مجھ پر بڑا افضل کیا۔میں یہ کہتا تھا کہ اے میرے رب تو نے جماعت پر بڑا فضل کیا ہے۔تو نے ہم پر بڑا افضل کیا ہے۔تو اپنی رحمتوں سے ہمیں نواز رہا ہے۔تو یہ یک جہتی ہے اور ایک ہی وقت میں خلیفہ وقت بھی یہ سوچ رہا ہے کہ اسلام کو کس طرح غالب کیا جائے ؟ اور ساری جماعت بھی یہ سوچ رہی ہے کہ اسلام کو کس طرح غالب کیا جائے ؟ خلیفہ وقت بھی یہ سوچ رہا ہے کہ اسلام کے غلبہ کے لئے کن قربانیوں کی ضرورت ہوگی ؟ اور ساری جماعت بھی یہ سوچ رہی ہے کہ اسلام کے غلبہ کے لئے کن قربانیوں کی ضرورت ہوگی؟ خلیفہ وقت بھی یہ سوچ رہا ہے کہ خدا تعالیٰ سے فضل سے جو کچھ ملا ہے، وہ میری اپنی کوشش کا نتیجہ نہیں اور جماعت بھی یہ سوچ رہی ہے کہ جو کچھ ہمیں خدا تعالیٰ کے فضل سے ملا، وہ ہماری ذاتی کوشش کا نتیجہ نہیں۔غرض جس جہت سے بھی دیکھیں، دونوں ایک ہی وجود نظر آتے ہیں۔جب تک یہ دونوں وجود ایک رہیں گے اور یک جہتی اور اتحاد اپنے کمال کو پہنچتا ہے، اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رحمت بارش کے قطروں سے بھی زیادہ نازل ہوتی رہتی ہے۔لیکن جب وہ قوم جس پر اللہ تعالٰی اپنی نصرت اور رحمت بارش کے قطروں سے بھی زیادہ برسا رہا ہوتا ہے، اگر کسی وقت بدقسمتی سے اس میں نفاق کا مرض شدت اختیار کر جائے اور کثرت سے پھیل جائے تو خدا تعالیٰ کی رحمت اور فضل کے دروازے آہستہ آہستہ بند ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔اور جب وہ اور بگڑنے لگ جاتے ہیں تو وہ دروازے بالکل بند ہو جاتے ہیں۔تب وہ قوم خدا کے فضل سے محروم ہو جاتی ہے اور ایک اور قوم کھڑی ہو جاتی ہے، جو یک جہتی اور اتحاد کا نمونہ اور یک جان ہو کر اس کی راہ میں قربانی دینے کی مثال پیش کرتے ہیں۔اور پھر اللہ تعالیٰ ان کے لئے ان دروازوں کو کھول دیتا ہے۔وہ ان میں داخل ہوتے ہیں، اپنے رب سے خوش ہوتے ہیں اور ان کا رب ان سے راضی ہو جاتا ہے۔اور یہ ایک ایسی چیز ہے، جس کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اس دنیا میں جنت مل گئی ہے۔اور یہ وہ جنت ہے، جس میں داخل ہو کر ہم محسوس کرتے ہیں کہ جو جنت ہمیں مرنے کے بعد ملے گی 249