تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 248 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 248

خطاب فرموده 10 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اعتقادات اور رحجانات پر حملہ تھا۔گو انہوں نے میری ساری باتوں کو اپنے اخباروں میں شائع نہیں کیا۔بلکہ کسی اخبار نے کوئی بات شائع کر دی اور کسی نے کوئی۔لیکن میری ساری گفتگو کا جو خلاصہ تھا، وہ انہوں نے شائع کر دیا۔اور وہ خلاصہ یہ تھا کہ اپنے رب کی طرف واپس آؤ، اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اسلام کی روشنی سے اپنے آپ کو منور کرو اور ہی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، جو دنیا کے حسن اعظم ہیں، ان کے ٹھنڈے سایہ تلے آجاؤ تا تم ہلاک نہ ہو۔تو یہ میری وارنگ تھی، یہ میرا انداز تھا اور وہ لوگ الہی تصرف کے ماتحت مجبور ہو گئے تھے کہ میری اس وارننگ کو، میرے اس انداز کو اپنے اخبارات میں شائع کریں۔ہمارا اندازہ اس وقت تو لاکھوں کا تھا لیکن بعد میں جو خبریں ملی ہیں، ان سے پتہ لگتا ہے کہ کروڑوں آدمیوں تک میری آواز پہنچی اور کروڑوں آدمیوں نے میری شکل کو دیکھا اور میری زبان سے وہ سنا، جو میں انہیں سنانا چا ہتا تھا۔اور اگر ہم ایک کروڑ روپیہ بھی خرچ کرتے تو شاید یہ نتائج نہیں نکل سکتے تھے۔خدا تعالیٰ نے ایک دھیلہ خرچ کیے بغیر یہ نتائج پیدا کر دئیے۔اللہ تعالیٰ نے اتنا فضل کیا اور مجھ کو بھی اور آپ کو بھی اتنے نشانات دکھائے ( کیونکہ میں اکیلا ان نشانات کا حصہ دار نہیں بلکہ میرے ساتھ ساری جماعت ان نشانات میں حصہ دار ہے۔کہ اگر ہم اپنی بقیہ زندگیوں کا ہر لحہ، اگر ہم اپنے ملکیت کا ہر پیسہ، اگر ہم اپنی عزتوں اور جذبات کا ہر پہلو اس کی راہ میں خرچ کر دیں ، تب بھی حقیقت یہ ہے کہ اس کا شکر ادا نہیں ہوسکتا۔ہمیں ان ذمہ داریوں کو جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے نتیجہ میں ہم پر عائد ہوتی ہیں، سمجھنا چاہیے۔اور ہمیں اپنی نسل کے دلوں میں اپنے پیارے رب کی محبت کو پیدا کرنا اور اس کو بڑھانا چاہئے۔اور انہیں اس وثوق اور یقین پر قائم کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر فیصلہ کر دیا ہے کہ ساری دنیا پر اسلام غالب آئے گا۔اس غلبہ کے لئے ہمیں ہر قسم کی قربانی دینی چاہیے اور اس انعام کے مقابلہ میں ہماری ساری قربانیاں بیچ ہیں۔اس لئے ہمیں وہ قربانیاں دے دینی چائیں تاہم اپنے رب کے پیار کو حاصل کر سکیں۔کوپن ہیگن میں، میں نے پادریوں سے گفتگو کی۔انہوں نے ایک منصوبہ تیار کر کے اور بڑے غور کے بعد بعض سوالات تیار کئے تھے، جو وہ مجھ سے پوچھنا چاہتے تھے۔ان سوالات میں سے ایک سوال یہ تھا کہ جماعت احمدیہ میں آپ کا مقام کیا ہے؟ میں نے انہیں جواب دیا کہ تمہارا سوال میرے نزدیک درست نہیں۔کیونکہ میرے نزدیک جماعت احمدیہ اور میں دونوں ایک ہی وجود ہیں۔یہ دو نام ہیں، ایک وجود کے۔اور جب میں اور جماعت دونوں ایک ہی وجود ہیں تو ” جماعت میں میرا مقام کیا ہے؟“ کا سوال درست نہیں۔اور یہ ایک حقیقت ہے کہ خلافت راشدہ کی نعمت جب تک کسی قوم میں قائم رکھی جاتی 248