تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 250 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 250

خطاب فرموده 10 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم وہ کتنی حسین اور پیاری ہوگی۔کیونکہ ہمارے رب نے ہم سے کہا کہ اس جنت کے سرور کے مقابلہ میں اس دنیوی جنت کا سرور بیچ نظر آئے گا۔اس اتحاد اور یک جہتی کو دعاؤں کے ذریعہ اور تدبیر کے ذریعہ سے قائم رکھنا، ہمارا فرض ہے۔اور منافق کے حملوں سے خود کو محفوظ رکھنا محض اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے محفوظ رکھنا، ہمارا کام ہے۔کیونکہ جس وقت شیطان اندرونی حملوں میں کامیاب ہو جاتا ہے اور جماعت کے شیرازہ کو بکھیر دیتا ہے، اس وقت آسمانوں کا رب اس سلسلہ کو کہتا ہے کہ ایک ایسے وجود پر میں نے رحمتیں نازل کرنی تھیں، جو وجود امام وقت اور جماعت یک جان ہو کر بناتی ہے۔اب چونکہ تم اور امام وقت ایک نہیں رہے، اس لئے تمہارے لئے آسمان سے میری رحمتیں بھی نازل نہیں ہوں گی۔ہم امید رکھتے ہیں کہ ان بشارتوں کی روشنی میں جو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے دیں، یہ رحمتیں ہم پر آئندہ بھی نازل ہوتی رہیں گی۔اور ہم یہ دعا کرتے ہیں اور دعا کرتے رہیں گے کہ اے ہمارے خدا! ہمیں نفاق اور افتراق سے بچائے رکھ اور اے ہمارے رب ! اب کبھی ایسا نہ ہو کہ تیرے پیار کی نگاہ بدل جائے اور غضب کی نگاہ ہم پر پڑنی شروع ہو جائے۔اور یہ سوچ کر کہ کہیں ہماری کسی غلطی کی وجہ سے ایسا ہو نہ جائے، راتوں کی نیند حرام ہو جاتی ہے۔اور یہ وہ خوف ہے، جو ایک مومن کے دل میں ہمیشہ رہتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک رجا اور امید ہے کہ اللہ تعالی بڑا رحم اور فضل کرنے والا ہے۔ہم اس کے فضلوں کو آسمان سے نازل ہوتا دیکھتے ہیں اور اس سے ہمارے دل اس یقین سے بھر گئے ہیں کہ وہ ہم پر اپنا فضل کرتا رہے گا، وہ ہمیں اپنی رحمتوں سے نوازتا رہے گا۔یہ بھی ایک ذمہ داری ہے کہ بچوں کی تربیت اس رنگ میں کی جائے کہ منافق شیطان کا کوئی حملہ بھی ہمارے خلاف کامیاب نہ ہو۔تدبیر کے ذریعہ اور دعاؤں کے ذریعہ اپنے رب سے نصرت اور مدد حاصل کی جائے۔اور اپنے رب کے ساتھ ایک زندہ تعلق قائم کیا جائے ، جس کے بغیر زندگی میں کوئی مزہ نہیں۔یورپ کے سفر میں اس کے متعلق ایک سوال کے جواب میں ، میں نے ایک عورت کی مثال دی تھی۔ایک سوال مجھ پہ ہوا کہ ایک بچے عیسائی اور ایک سچے مسلمان میں کیا فرق ہے؟ تو میں نے جواب میں کہا کہ ایک سچا مسلمان اپنے رب سے ایک زندہ تعلق رکھتا ہے۔اور اس فقرہ کو سمجھانے کے لئے میں تمہیں ایک مثال دیتا ہوں۔چنانچہ میں نے ایک احمدی بہن کی مثال دی، جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تین بشارتیں ملیں۔اور میں نے کہا کہ اس قسم کی ایک مثال بھی عیسائی دنیا میں نہیں مل سکتی۔اس پر سوال کرنے والی خاموش ہو گئی۔250