تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 247
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطاب فرموده 10 ستمبر 1967ء تمام رفعتوں والا اور تمام برکتوں والا رب ہے۔اور اللہ نے مجھے یہ وعدہ دیا ہے کہ اگر میں اس سفر کو اختیار کروں تو وہ میرے لئے کافی ہوگا۔اور جس کے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہو اس کو کسی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔اس کی تائید میں حافظ مبارک احمد صاحب نے ایک کشف دیکھا تھا۔انہوں نے مجھے لکھا کہ میں نے بیداری کے عالم میں یہ دیکھا کہ ایک بزرگ سفید کپڑوں میں ملبوس میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے سے عربی زبان میں باتیں شروع کیں۔اور مجھ سے پوچھنے لگے کہ تمہیں پتہ ہے کہ خلیفہ وقت یورپ کے سفر پر جارہے ہیں؟ میں نے کہا ، ہاں، مجھے اس کا علم ہے۔تب اس بزرگ نے پوچھا، کیا انہوں نے اپنے رب سے اجازت لے لی ہے؟ حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ جب اس بزرگ نے مجھ سے یہ بات کہی تو میرے سامنے یہ نظارہ آیا کہ آپ (یعنی یہ خاکسار ) مسجد مبارک میں آئے ہیں اور محراب کے پاس کھڑے ہو گئے ہیں۔میں آپ کے پاس آیا اور آپ سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنے رب سے اپنے اس سفر پر جانے کی اجازت لے لی ہے؟ اس پر آپ نے جواب دیا کہ ہاں، میں نے اپنے رب سے اجازت لے لی ہے اور اس نے مجھے اجازت دے دی ہے۔اور اس بشارت کے ساتھ اجازت دی ہے کہ وہ بہت بڑی کامیابیاں عطا کرے گا۔حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ میں اس برزگ کے پاس گیا اور اسے بتایا کہ آپ نے اپنے رب سے اس سفر پر جانے کی اجازت لے لی ہے۔بعد میں وہ بزرگ مجھ سے عربی زبان میں گفتگو کرتے رہے۔غرض اس وثوق کے ساتھ کہ میری کوئی نفسانی غرض اس سفر سے تعلق نہیں رکھتی ، میں نے اس سفر کو اختیار کیا۔اور اللہ تعالیٰ نے مجھے وعدہ دیا کہ وہ سفر کے دوران اور بعد میں بھی اپنی برکتیں نازل کرتا رہے گا۔اور جس کثرت کے ساتھ وہ برکتیں نازل ہوئیں، اس سے میرا دل اس کی حمد سے بھر گیا۔اور ان برکتوں کے نزول نے دنیا پر ایک دفعہ پھر یہ ثابت کیا کہ ہمارا رب کتنا پیار کرنے والا ہے اور وہ اپنے وعدہ کا کتنا پاس کرنے والا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے، اس میں ذرا بھی مبالغہ نہیں کہ سارے سفر کے دوران میں انگلینڈ میں بھی ، سویڈن میں بھی، ہالینڈ میں بھی، کوپن ہیگن میں بھی، جرمنی میں بھی ، غرض جہاں بھی ہم گئے اور جس سے بھی ہمیں واسطہ پڑا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارا خادم ہے۔ذراذراسی بات کا خیال رکھنے والا ہے اور ہر قسم کی خدمت کے لئے تیار ہے۔اور یہ الہی تصرف تھا۔اور پھر یہ بھی الہی تصرف تھا کہ اس زمانہ میں جب اسلام کے خلاف وہاں بغض اور تعصب انتہا کو پہنچا ہوا تھا، انہوں نے میری باتوں کو غور سے سنا اور شرافت اور صداقت کے ساتھ انہیں اپنے اخباروں میں شائع کیا۔کسی ایک شخص نے بھی میری طرف کوئی ایسی بات منسوب نہیں کی ، جو میں نے نہ کہی ہو۔حالانکہ جو بات میں انہیں کہہ رہا تھا، وہ ان کے اعتقاد اور مذہب کے خلاف جاتی تھی۔وہ ان کے 247