تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 246
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطاب فرموده 10 ستمبر 1967ء لئے قربانیوں کی ضرورت ہوگی تو نہ صرف مال کی قربانی، نہ صرف جان کی قربانی ، نہ صرف وقت کی قربانی ، نہ صرف جذبات کی قربانی بلکہ جتنی قربانیاں بھی آپ سوچ سکتی ہیں ، سب قربانیاں اس راہ میں پیش کر دیں گی۔اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد یہ سمجھیں گی کہ ہم نے کچھ بھی نہیں کیا۔عاجزی اور تواضع اور نیستی کے اس مقام کو نہ چھوڑیں گی، جس عاجزی، تواضع اور نیستی کے مقام پر ہمیں ہمارا رب دیکھنا چاہتا ہے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم محض اللہ کے بندے اور بندیاں ہیں۔اپنی ذات میں ہم کچھ بھی نہیں۔ہم لاشی محض ہیں۔نہ ہم میں کوئی طاقت ہے، نہ ہم میں کوئی خوبی ہے۔نہ ہم میں کوئی مہارت ہے، نہ ہمارے پاس اثر ورسوخ اور اقتدار ہے۔نہ ہم میں استطاعت ہے، نہ ہم میں مقبولیت ہے۔ہمارے پاس کچھ بھی نہیں۔لیکن اس کم مائیگی اور نا اہلیت کے باوجود اللہ تعالیٰ ، جو ہر چیز کا مالک ہے، اپنے بندوں کو اپنے فضل سے نوازتا ہے۔وہ انہیں اپنی نگاہ میں ایک بلند مقام عطا کرتا ہے۔وہ ان سے پیار اور محبت کا سلوک کرتا ہے۔اور جسے اللہ تعالیٰ کا پیار اور محبت اور عزت مل جائے ، اس کو اگر اس جہاں کی ساری چیزیں بھی دے دی جائیں تو وہ ان کو پرے پھینک دے گا۔اور کہے گا کہ مجھے ان کی ضرورت نہیں، میں نے جو پانا تھا، وہ پالیا ہے۔جب سفر کا پروگرام بنا تو میرے دل میں بڑی گھبراہٹ تھی ایک طرف میں اس سفر کی ضرورت کو یکھتا تھا اور میرے دل میں یہ خواہش تھی کہ میں مستورات کی طرف سے دی گئی قربانی کے نتیجہ میں جو مسجد تعمیر ہوئی ہے، اس کا افتتاح خود کرو۔اور یورپین اقوام کو جھنجھوڑوں اور اپنے رب کی طرف ان کو بلاؤں۔اور دوسری طرف یہ خیال کرتا تھا کہ میں ایک نہایت ہی ناچیز اور کم پایا انسان ہوں ، پتہ نہیں ، میں اس کام کو پوری طرح ادا بھی کر سکوں گا یا نہیں۔پس میں نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا اور اس کے حضور بے حد دعائیں کیں۔اور اپنے بھائیوں اور بہنوں سے بھی کہا کہ وہ دعائیں کریں تا اگر اللہ تعالی اس سفر کو مبارک سمجھتا ہو اور اگر اس کے نتیجہ میں اس کی برکتوں کا نزول ہونا ہو تو وہ اس سفر کی مجھے توفیق دے اور اس کی اجازت بھی عطا کرے۔تب میں نے اس کی محبت کا جلوہ دیکھا، جس کا ذکر تفصیل کے ساتھ میں اپنے ایک خطبہ میں کر چکا ہوں اور جس کا سرور آج بھی میرا دل اور میری جان اور میراجسم محسوس کر رہا ہے۔وہ ایک ایسا سرور ہے، جو مجھے میری ساری زندگی حاصل ہوتا رہے گا۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھ سے جدا نہیں ہوگا۔اور اس میں جو نمایاں چیز تھی ، وہ أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ تھا۔جونورانی الفاظ میں مجھے لکھا ہوا نظر آیا۔اور جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میں نے اس جلوہ سے یہ سمجھا کہ اگر چہ میں ایک حقیر بندہ ہوں لیکن جس رب سے میرا تعلق ہے، وہ تمام طاقتوں والا ، وہ 246