تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 245 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 245

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطاب فرمودہ 10 ستمبر 1967ء بڑی اہمیت حاصل ہے۔اور میں اپنے رب سے یہ امید رکھتا ہوں کہ وہ آپ کی اس کوشش کو قبول کرتے ہوئے ، اس میں اتنی برکت ڈالے گا کہ اس کے نتیجہ میں ہزاروں نہیں لاکھوں آدمی اسلام کی طرف مائل ہوں گے اور اسلام کو قبول کریں گے۔یہ مسجد دوراہے کی حیثیت رکھتی ہے۔یا دور ہے کا جو چوک ہوتا ہے، اس کی حیثیت رکھتی ہے۔ابتداء اس کی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے ہوئی اور تعمیر کی تکمیل خلافت ثالثہ کے دور میں ہوئی۔ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اس سفر کے دوران بارش کے قطروں سے بھی زیادہ کثرت کے ساتھ نازل ہوتے دیکھا۔اور ہمارے دل اپنے محبوب اور اپنے مقصو د رب کی حمد سے اس قد ر لبریز ہیں کہ دنیا کی کوئی زبان ان کا اظہار نہیں کر سکتی۔ویسے تو اللہ تعالیٰ کے انعامات اپنے بندوں پر ہمیشہ ہی اتنے ہوتے ہیں کہ ان کا شمار ہی نہیں کیا جاسکتا لیکن بعض وقتوں میں یہ انعامات اس کثرت سے ہوتے ہیں کہ جس طرح موسلا دھار بارش ہوتے وقت آسمان سے قطرے برستے ہیں، اس سے بھی کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہورہے ہوتے ہیں۔جب ہم مسجد میں افتتاح کے لئے داخل ہوئے تو وہاں سینکڑوں مسلمان موجود تھے۔اور مسجد میں اگلے احاطہ میں کثرت سے وہ لوگ تھے ، جو ا بھی اسلام نہیں لائے۔اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ سارے کے سارے اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے متاثر ہورہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے یہ انعامات ہم پر بہت سی باتیں واجب کرتے ہیں۔جیسے حمد اور شکر ہیں۔ہمیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔اس کی حمد کے ترانے گاتے رہنا چاہیے کہ اس نے محض اپنے فضل سے اپنے ناچیز بندے کی حقیر پیش کش کو قبول کر لیا۔اور میں پورے وثوق اور یقین کے ساتھ یہ فقرہ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس پیش کش کو قبول فرما لیا ہے۔اس لئے میں سلسلہ کا امام ہونے کی حیثیت میں آج آپ کو مبارک باد دیتا ہوں۔اس دعا کے ساتھ کہ جس نے اپنے فضل سے آپ کو ان قربانیوں کی آج سے پہلے تو فیق عطا کی ہے، وہ آئندہ بھی آپ کو اپنی راہ میں ہر قسم کی قربانیاں پیش کرنے کی توفیق عطا کرتا چلا جائے۔تا قیامت کے دن جب خدا کے پیارے بندے خدا کے حضور جمع ہوں تو آپ بھی ان صحابیات میں شامل ہوں ، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں دنیا میں بے شمار قربانیاں اور فدائیت اور ایثار کے نمونے پیش کئے ، جن کی وجہ سے ان سے ان کا رب راضی ہوا اور وہ اپنے رب کی رضا پر راضی اور خوش۔آج ہمیں ان ذمہ داریوں کو نباہنے کے لئے، جو ہم پر عائد ہوتی ہیں، عہد کرنا چاہیے اور یہ عزم کرنا چاہیے کہ ہم بھی ست اور ماندہ نہیں ہوں گے۔بلکہ جب بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے 245