تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 244 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 244

خطاب فرموده 10 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم نواب کی بیٹی ہیں۔وہ احمدی ہو چکی ہیں۔وہ وہاں صبح سے لے کر شام تک نوکروں کی طرح کام کیا کرتی تھیں۔وہ برتن صاف کرتی تھیں اور کھانے پکانے میں مدد کرتی تھیں۔وہ اتنی با حیا تھیں کہ نقاب نہ ہونے کے باوجود برقع میں ہوتی تھیں ، نظر ہر وقت نیچے کئے ہوئے اور سرڈھانکے ہوئے۔ان کے چہرہ پر جسم دیا کی روشنی چمکتی تھی۔اور جب وہ بے وقت کام سے فارغ ہو کر گھر واپس جاتی تھیں تو یہ احساس ہوتا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ اگر کوئی اور کام ہوتا تو وہ بھی میں کرتی ، چاہے ساری رات ہی یہاں کیوں نہ گزر جاتی۔غرض بڑی فدائی احمدی بہنیں وہاں پیدا ہو چکی ہیں۔۔T۔V سے تعلق رکھنے والی ایک عیسائی عورت نے مجھ سے زیورک میں سوال کیا کہ ہمارے ملک میں آپ اسلام کو کیسے پھیلائیں گے؟ میں نے اسے کہا کہ دلوں کو فتح کر کے۔اس جواب سے وہ بہت متاثر ہوئی اور اس نے کہا کہ میں یہ فقرہ ٹیلی ویژن پر ضرورلانا چاہتی ہوں۔جب میں ٹیلی ویژن پر آپ کا انٹرویولوں تو آپ یہ فقرہ ضرور دہرائیں۔میں نے کہا کہ بہت اچھا، آپ یہ سوال کر دیں، اور میں جواب میں اپنا یہی جواب دہرا دوں گا۔کوپن ہیگن میں جب مجھ سے یہی سوال کیا گیا کہ آپ ہمارے ملک میں کس طرح اسلام پھیلائیں گے؟ تو میں نے کہا کہ یہ سوال مجھ سے زیورک میں بھی کیا گیا تھا اور میں نے اس کا یہ جواب دیا تھا کہ دلوں کو فتح کر کے۔اس مجلس میں ایک بڑی باوقار صحافی عورت بھی بیٹھی ہوئی تھی۔اس نے یہ جواب سن کر بڑے وقار سے پوچھا کہ آپ ان دلوں کو کریں گے کیا ؟ میں نے اسے جواب دیا کہ ہم انہیں پیدا کرنے والے رب کے قدموں پر جارھیں گے۔اس جواب کا اس پر اتنا اثر ہوا کہ پریس کانفرنس کے بعد بھی وہ کئی گھنٹے وہاں ٹھہری رہی۔اس نے ہمیں نماز پڑھتے دیکھا، کئی گھنٹے وہ ہمارے دوستوں سے باتیں کرتی رہی اور اس نے کہا، میں واپس جا کر اس ملاقات ، مسجد اور پریس کانفرنس کے متعلق اپنے اخبار میں ضرور ایک مضمون لکھوں گی۔غرض وہاں کی احمدی مستورات انمول ہیں۔ان میں اتنی روحانیت پیدا ہو چکی ہے، اتنا اخلاص ان میں پیدا ہو چکا ہے کہ وہ آپ میں سے بہتوں کے لئے بھی قابل رشک ہیں۔جو غیر تھے ، ان پر بھی مسجد کا اثر تھا۔ان کے اندر اس مسجد کی وجہ سے اور پھر اس کے افتتاح کی وجہ سے اسلام کی طرف توجہ پیدا ہوئی اور انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ ایک ایسا مذہب ہے، جس کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔میں جب ان تمام واقعات پر غور کرتا ہوں اور سوچتا ہوں تو میں اس نتیجہ پر پہنچتا ہوں کہ مسجد نصرت جہاں کی تعمیر اور اس کے افتتاح کوو 244