تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 213 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 213

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم تقریر فرموده 05 ستمبر 1967ء نے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی ہڈیوں کو توڑا اور آپ کے جسم کو زخمی کیا تھا۔اس کے دل پر اس کا بہت اثر ہوا اور کہنے لگا ، مجھے حوالہ دکھائیں؟ اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کئے تھے کہ وہ حوالہ میرے پاس موجود تھا۔میں نے چوہدری محمد علی صاحب سے کہہ کر وہ حوالہ منگوایا اور اسے دکھایا۔وہ کہنے لگا، میں نے اس کو نقل کرنا ہے؟ میں نے کہا تم اسے بڑی خوشی سے نقل کرو۔چنانچہ اس نے وہ حوالہ اپنے اخبار میں نقل کیا اور اگلے روز وہ اخبار، جو اسلام کے حق میں ایک لفظ بھی نہیں لکھتا تھا، اس نے ایک پورا کالم اس کا نفرنس کی روئیداد سے متعلق لکھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ اقتباس وہ اس میں لے آیا کہ آپ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں اس صلیب کو توڑنے کے لئے آیا ہوں، جس صلیب نے حضرت مسیح علیہ السلام کی ہڈیوں کو تو ڑا اور ان کے جسم کو زخمی کیا۔سارے احمدی حیران تھے کہ اللہ تعالیٰ نے کیسا تصرف اس پر کیا ہے اور اس نے ہمیں ایک معجزہ دکھایا ہے۔حالانکہ یہ اخبار اسلام کے حق میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا کرتا تھا۔پھر جب میں ہالینڈ میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ہمارے مبلغ بہت گھبرائے ہوئے تھے کیونکہ آج کل ان لوگوں میں اسلام کے خلاف بڑا تعصب ہے۔اور بعض مبلغین کا یہ مشورہ تھا کہ پریس کا نفرنس نہ بلائی جائے کیونکہ پتہ نہیں کہ وہ کیا سوال کریں گے؟ اور پھر کس قسم کے مضامین وہ اپنے اخباروں میں لکھیں گے؟ ہو سکتا ہے کہ وہ مضامین ہمیں نقصان پہنچانے والے ہوں۔کیونکہ ان کا کوئی اعتبار نہیں۔بعض مبلغین کو مجھے سمجھانا پڑا کہ تم فکر نہ کرو۔وہ مجھ سے سوال کریں گے اور میں اپنے رب سے امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے ان سوالات کے ایسے جوابات دینے کی توفیق عطا کرے گا کہ جو خطرات اس وقت تمہارے ذہن میں ہیں، وہ باقی نہیں رہیں گے۔جیسا کہ شاید میں نے ایک خطبہ میں بھی بتایا ہے، وہاں ایک نوجوان نے، جو غالباً کسی کیتھولک اخبار کا نمائندہ تھا، مجھ سے یہ سوال کیا کہ ہمارے ملک میں آپ نے کتنے مسلمان کئے ہیں؟ (سوال تو اس نے بڑے ادب اور احترام سے کیا مگر اس کی آنکھ میں شوخی تھی۔اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں جو جواب ڈالا ، وہ یہ تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس دنیا میں جتنی زندگی گزاری ہے، گو ہمارا اور تمہارا اس بات میں بھی اختلاف ہے لیکن تمہارے نزدیک جتنی زندگی انہوں نے اس دنیا میں گزاری ہے، اپنی ساری زندگی میں انہوں نے جتنے اپنے ساتھی بنائے اور عیسائی کئے ، اس سے زیادہ ہماری جماعت تمہارے ملک میں ہے۔اس پر حافظ قدرت اللہ صاحب ( مبلغ انچارج) جو پہلے ڈرے ہوئے تھے کہ پتہ نہیں، یہ لوگ کیا سوال کریں گے اور ان کے کیا جواب ہوں ؟ انہوں نے اسی مجلس میں ہی جزاک الله جزاک الله، اونچی آواز سے کہنا ، 213