تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 212
تقریر فرموده 05 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم سامنے اس طرح رکھا نہیں جاتا، جس طرح انہیں رکھا جانا چاہیے۔اور اب وقت ہے کہ میں وہاں جا کر ان قوموں پر اتمام حجت کر دوں۔اپنے دورہ کے دوران فرینکفرٹ میں بھی ، زیورک میں بھی ، ہیگ میں بھی ، ہمبرگ میں بھی ، کوپن ہیگن میں بھی، لنڈن میں بھی ، گلاسگو میں بھی، جہاں بھی میں گیا، میں نے بڑی وضاحت سے ان کو یہ بتایا کہ اس قسم کی پیشگوئیاں ہیں۔اور پھر میں نے ان پیشگوئیوں کی تفصیل کو ان کے سامنے رکھا اور ان کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اب تمہارے لئے کوئی اور راہ کھلی نہیں۔اگر تم تباہی سے بچانا چاہتے ہو تم اسلام میں آؤ۔اور اللہ تعلی کا یہ بیڑ ہی فضل ہے کہ اس نے ہرگھر میں پیغام پہنچا دیا۔نہ مجھ میں یہ طاقت تھی ، نہ وہاں کی جماعت میں یہ طاقت تھی اور نہ آپ میں یہ طاقت ہے۔ساری جماعت مل کے بھی اپنے اندر یہ طاقت نہیں رکھتی کہ اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس پیغام کو کہ اللہ تعالیٰ کو پہچانو اور اسلام لاؤ، ہر گھر میں ہم پہنچا سکتے۔مگر خدا تعالیٰ نے ایسا معجزہ دکھایا کہ آج میں وثوق اور یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اکثریت کے کانوں تک یہ آواز پہنچ چکی۔ہے۔فرینکفرٹ میں جتنے اخبار تھے، انہوں نے ہمارے متعلق خبریں شائع کیں۔انہوں نے لکھا کہ میں یہاں مذکورہ بالا پیغام لے کر آیا ہوں۔اسی طرح زیورک کے اخبار تھے۔زیورک میں ایک اخبار ہے، جو نہایت ہی متعصب ہے اور اسلام کے خلاف ہمیشہ لکھتا ہے۔ہمارے مبلغ چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ اس کی تردید میں لکھتے ہیں تو اسے شائع نہیں کرتا۔چوہدری صاحب پر یس کا نفرنس سے پہلے مجھ سے کہنے لگے کہ پتہ نہیں، اس اخبار کا نمائندہ آتا ہے یا نہیں؟ اس اخبار کی اہمیت یہ ہے کہ سارے پڑھے لکھے لوگ اس اخبار کو پڑھتے ہیں۔اشاعت کے لحاظ سے غالباً یہ دوسرے نمبر پر ہے۔لیکن یہ عوام کا اخبار نہیں بلکہ پڑھے لکھوں کا اخبار ہے اور بڑا سخت متعصب ہے۔بہر حال پریس کانفرنس ہوئی تو ایک نوجوان اس اخبار کی نمائندگی کرتے ہوئے وہاں موجود تھا۔اور اللہ تعالیٰ نے اس کے دل پر یہ ایسا تصرف کیا کہ وہ اس کانفرنس میں بھی بیٹھا رہا اور جہاں دوسروں نے بعض سوالات کئے ، اس نے بھی بعض سوالات کئے اور میں نے ان کے جواب دیئے۔اور کانفرنس کے بعد بھی اس نے مجھ سے باتیں کیں اور پندرہ ، بیس منٹ تک مجھ سے باتین کرتا رہا۔اور آخر میں اس نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ آپ مجھے بتائیں کہ بانی سلسلہ احمدیت کی بعثت کا مقصد کیا تھا ؟ اس کے جواب میں، میں نے کہا کہ میں اپنے الفاظ میں تمہیں کیا بتاؤں؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں ہی تمہیں آپ کی بعثت کا مقصد بتا تا ہوں۔آپ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لئے مبعوث کیا ہے کہ میں دلائل کے ساتھ اس صلیب کو توڑ دوں، جس صلیب 212