تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 203 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 203

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبه جمعه فرموده نیم ستمبر 1967ء مسیح موعود کا پیار ہے۔وہ یہ دیکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس شخص کو ایک مقام پر فائز کیا ہے اور اس کے وعدے ہیں کہ وہ اس کے ساتھ ہے، اس لئے اور صرف اس لئے وہ مجھ سے پیار کرتا ہے۔ورنہ مجھ میں ذاتی کوئی خوبی نہیں۔اور اس قسم کا پیار میں نے وہاں دیکھا کہ دل چاہتا تھا کہ جسم کا ذرہ ذرہ اپنے رب پر قربان ہو جائے۔اور ان بھائیوں پر بھی جن کے دل کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح سرا پا محبت بنا دیا۔کوپن ہیگن کی مسجد کے افتتاح کے موقع پر ہمارا یہ غیور اور محبت کرنے والا بھائی ، میڈسن ، میری حفاظت اور پہرے کا بھی خیال رکھتا رہا۔پھر افتتاح کے موقع پر کم و بیش تین منٹ اس نے بولنا تھا۔ایک ایک لفظ اس کے گلے میں انکتا، اس قسم کا جذباتی وہ ہو گیا تھا۔حالانکہ سکنڈے نیویا کے لوگ اپنے جذبات کا لوگوں کے سامنے اظہار اتنا برا سمجھتے ہیں کہ آپ اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ایک دفعہ ہمارا ایک آنریری مبلغ وہاں آیا ہوا تھا، اس کو اطلاع ملی کہ اس کا باپ فوت ہو گیا ہے۔لیکن امام کمال کو پتہ بھی نہیں لگا۔نہ اس کی زبان نے ظاہر کیا ، نہ اس کے چہرے نے ظاہر کیا ، نہ اس کی طرف سے یہ ظاہر ہوا کہ اس کو کوئی تکلیف پہنچی ہے۔اس قد ر ضبط ہے ان کو اپنے نفسوں پر۔اس کے باوجود پانچ ، چھ دن جو ہم ٹھہرے، معلوم نہیں کتنی دفعہ آبدیدہ ہوئے ، جذباتی ہو گئے، وہ دوست۔ایک ہمارے بہت ہی مخلص آنریری مبلغ ناروے کے ہیں۔ان کا نام ہے، نور احمد۔اس نے اپنی بیوی کو تبلیغ کر کے احمدی کیا۔وہ اس کا نام رکھوانا چاہتے تھے کیونکہ اسے احمدیت قبول کئے ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم اکیلا ملنا چاہتے ہیں۔ان کی بیوی اور ایک چھوٹی بچی ہے، دو اڑھائی سال کی بڑی پیاری۔سب ملنا چاہتے ہیں۔میں نے ان کو وقت دے دیا۔اتفاقاً ان کی بیوی تو بیمار ہوگئی تو وہ خودا کیلے آئے ، میرے سامنے۔جب آکر بیٹھے تو میں نے دیکھا کہ وہ کانپ رہے ہیں اور خاموش ہیں، بات کرتے ہیں تو ایک فقرہ بھی ان کے منہ سے پورا نہیں نکل سکتا، اس قدر جذباتی ہو گئے تھے۔میں نے ان سے ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں۔پانچ ، سات منٹ تک میں باتیں کرتارہا، ان کے حالات وغیرہ کے متعلق جب باتوں سے میں نے اندازہ لگایا کہ اب یہ شخص اپنے نفس پر قابو پا چکا ہے اور جذبات بے قابو نہیں ہیں تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا کام ہے؟ تو کہنے لگے کہ میں نے اپنی بیوی کا نام رکھوانا ہے اور بچی کا۔بیوی کا نام میں نے محمودہ رکھا اور بچی کا نام رکھا، نصرت جہاں“۔کیونکہ نصرت جہاں ہمیں مسجد بھی ملی اور ایک بچی بھی اللہ تعالیٰ نے دی۔بچی کا نام نصرت جہاں سن کر تو اس کی باچھیں کھل گئی۔میرا خیال ہے کہ اس کی اپنی خواہش یہ تھی کہ یہی نام رکھا جائے۔لیکن اس نے اپنی خواہش کا اظہار نہیں کیا تھا۔203