تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 202 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 202

خطبه جمعه فرموده یکم ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ہوتو وہ خود ہی ادا کر دیتا ہے۔ایک ماہ میں دو ہزار روپے کے بل کا مطلب یہ ہے کہ دو ہزار روپیہ کا ہل جتنا وقت خرچ کرنے پر آتا ہے، اتنا وقت بھی تو اس نے خرچ کیا ہے نا؟ میرا اندازہ ہے کہ کئی گھنٹے روزانہ اوسط بنے گی۔پس بڑی ہی قربانی ہے، اس شخص کی جو پورے چندے بھی دیتا ہے اور دین کے کاموں پر بہت سا وقت بھی خرچ کرتا ہے۔اور اس کے علاوہ گھنٹوں ٹیلیفون پر تبلیغ اسلام کرتا ہے اور ٹیلی فون کا بل بھی اپنی گرہ سے دیتا ہے۔یہ دوست بڑی غیرت رکھنے والے ہیں، اسلام کے لئے۔بڑی قربانیاں کرنے والے ہیں، اسلام کے لئے۔بڑی محبت رکھنے والے ہیں، اللہ سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اور آپ کے غلاموں سے۔اور اللہ تعالیٰ کی محبت پانے والے بھی ہیں۔کیونکہ جو خدا کی راہ میں دیتا ہے ، وہ خدا سے اس سے زیادہ حاصل بھی کرتا ہے۔ورنہ بشاشت قائم نہیں رہ سکتی۔جب تک اللہ تعالیٰ کے پیار کا سلوک اس کا ایک بندہ اس دنیا میں نہیں دیکھتا، بشاشت ایمانی نہ پیدا ہوتی ہے، نہ قائم رہتی ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرتا۔وہ ان سے اس دنیا میں ہی اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے۔ادھار رکھنا نہیں چاہتا۔وہ غیر محدود جلووں کا مالک ہے، بے شمار رنگ ہیں۔ہمارے تصور میں بھی وہ رنگ نہیں آتے۔جس رنگ میں اللہ تعالیٰ اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے، یہ لوگ اپنے رب سے اس محبت کو پاتے ہیں۔اور جو ایثار اور قربانی اور فدائیت کے نمونے یہ دکھاتے ہیں، اللہ تعالیٰ پہلے سے بڑھ کر ان پر انعام کرتا ہے اور رحمتیں نازل کرتا ہے۔سو اس طرح یہ ایک چکر ہے، جو چلا ہوا ہے۔یہ چکر جیسے یہاں چلا ہوا ہے، وہاں بھی چل پڑا ہے۔اور درجنوں ایسے آدمی ہیں، مرد بھی اور عورتیں بھی، جنہوں نے خدا کی راہ میں فدائیت اور ایثار کا نمونہ دکھایا۔اور اللہ تعالیٰ نے انتہائی محبت اور پیار کا سلوک ان سے کیا۔اور ان کے سینوں کو اپنے نور سے اور اپنی محبت سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے فرزند جلیل کی محبت سے بھر دیا۔اور یہ ایک نمونہ بن گئے ہیں، اس دنیا کے لئے۔میں تو ان سے کہتا تھا کہ تمہیں دیکھ کے کچھ امید بندھتی ہے۔ورنہ جن قوموں سے تم نکلے ہو، اگر ان کے کردار اور گزری زیست پر نگاہ کریں تو وہ اس قابل ہیں کہ بلاک کر دیئے جائیں۔لیکن جس قوم سے تمہارے جیسے خدا کے پیارے پیدا ہو سکتے ہیں، اس قوم میں سے جہاں بارہ نکلیں، بارہ لاکھ بھی نکل سکتے ہیں۔اس لئے ہمیں امید بندھتی ہے کہ شاید تمہاری قومیں بچ جائیں اللہ تعالیٰ کے قہر سے۔اور قہر کی بجائے رحمت اور پیار کے جلوے جو ہیں ، وہ ان کو ملاحظہ کریں۔دیکھو، میں ہوں ایک ذرہ ناچیز۔مجھ سے اگر کوئی احمدی پیار کرتا ہے تو صرف اس لئے کہ اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا پیار ہے، اس کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار ہے، اس کے دل میں 202