تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 204
خطبه جمعه فرموده یکم ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خیر نام رکھا گیا۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ اس کا جسم پھر کانپنا شروع ہو گیا اور اس کے ہونٹ پھڑ پھڑانے لگے اور بڑی مشکل سے اس نے یہ فقرہ ادا کیا کہ دل میں جو جذبات ہیں، وہ زبان پر نہیں آسکتے۔یہ کہہ کر وہ کھڑا ہو گیا۔میں نے اسے گلے سے لگا لیا۔اس نے السلام علیکم کہا اور چلا گیا۔آنکھیں اس کی آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔بات ہی نہیں کر سکتا تھا، اس قسم کا جذباتی ہو رہا تھا وہ۔اور تھا وہ اس قوم میں سے کہ اگر اس کا باپ بھی مرجاتا تو وہ نہ بتاتا کہ اس کا باپ مر گیا ہے۔اور نہ چہرے پر غم کے آثار ظاہر ہوتے لیکن اب ان کے دل اللہ تعالیٰ نے بدل دیتے ہیں۔اب وہ ایسی قوم بن گئے ہیں کہ اپنے اخلاص اور تقویٰ اور اس فضل کی وجہ سے اور اس رحمت کی وجہ سے، جو اللہ تعالیٰ ان پر نازل کر رہا ہے، اس پیار کی وجہ سے، جس کے وہ نمونے دیکھتے ہیں، یہاں کے مخلص بزرگوں کے پہلو بہ پہلو کھڑے ہیں۔اب ان کی حیثیت ایک شاگردہ کی نہیں رہی۔وہ شاگرد کی حیثیت سے آگے بڑھ گئے ہیں۔اور جس طرح یہاں کے مخلصین دنیا کے استاد ہیں اور استاد ثابت ہو رہے ہیں، اسی طرح وہ بھی دنیا کے استاد ثابت ہورہے ہیں۔اور اگر ہم نے سینتی سے کام لیا اور وہ قربانیاں نہ دیں، جو ہمیں دینی چاہئیں، ایسے احمدی کی حیثیت سے، جس کا مرکز کے ساتھ تعلق ہے، اور جو پاکستان میں رہنے والے ہیں، نیز اگر ہم نے اپنی نسلوں کی اعلیٰ تربیت نہ کی تو پھر اللہ تعالی تحریک غلبہ اسلام کا مرکز ایسی قوم میں منتقل کر دے گا، جو اس کی راہ میں سب سے زیادہ قربانی دینے والی ہوگی۔بے شک ہمیں ایک عظیم بشارت دی گئی ہے۔مگر یہ بشارت ہم پر ایک عظیم ذمہ داری بھی عائد کرتی ہے۔جس کی طرف ہر وقت متوجہ رہنا، از بس ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کی تو کسی سے رشتہ داری نہیں ہے۔اس لئے اس عظیم ذمہ داری کے پیش نظر ہمیں ہر وقت ڈرتے ڈرتے زندگی کے دن گزارنے چاہئیں۔کہ ہماری غفلت اور کوتاہی کے نتیجہ میں کہیں اللہ تعالیٰ سلسلہ کے مرکز کو ہم سے چھین کر یا ہماری نسلوں سے چھین کر کسی اور کے سپرد نہ کر دے۔بوجہ اس کے کہ وہ ہماری یا ہماری نسلوں کی نسبت زیادہ قربانیاں دینے والے اور اللہ سے زیادہ محبت کرنے والے، اللہ کی راہ میں فدائیت اور ایثار کے بہتر نمونہ دکھانے والے بن جائیں۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی توفیق دے، بہتر سے بہتر خدمت دین اسلام کی۔لیکن اللہ تعالی ہم میں کوئی خامی اور نقص اور کمزوری پیدا نہ ہونے دے۔ہمیں دعا ئیں بھی کرنی چاہئیں اور کوشش بھی کرنی چاہئے کہ اس کی توفیق سے ہم ہمیشہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن طور پر نبھاتے رہیں۔اس وقت انسانیت جس دور میں سے گذر رہی ہے ، وہ انسانیت کے لئے بڑا ہی نازک دور ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جب میں موجودہ انسان کے حالات پر غور کرتا ہوں تو میرا چین چھن جاتا 204