تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 201 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 201

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبه جمعه فرموده یکم ستمبر 1967ء بڑی عمر کے بھی ہیں اور نو جوان بھی ہیں۔اخلاص اور محبت ان میں کوٹ کوٹ کے بھری ہے۔ان سے مل کے طبیعت میں خوشی پیدا ہوتی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس کے دل میں ایمان کی بشاشت ایک دفعہ پیدا ہو جائے ، شیطانی حملوں کا خطرہ اس کے لئے باقی نہیں رہتا۔یہ بشاشت ایمانی اس گروہ کے دلوں میں اس نے پیدا کر دی ہے، اپنے فضل ڈنمارک میں ایک شخص ہے، عبد السلام میڈسن۔وہ احمدی ہوا، اس نے اسلام کو سیکھا، قرآن کریم کے ترجمے ، جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے شائع کروائے ، ان میں سے ہر ایک کو لے کر اس نے بڑے غور سے پڑھا۔پھر ڈیمینش زبان میں اس نے قرآن کریم کا ترجمہ کیا ، ان تراجم کی روشنی میں اور وہ بڑا مقبول ہوا۔ایک کمپنی نے اس سے معاہدہ کیا اور دس ہزار شائع کیا ، جس میں سے غالباً تین، چار ہزار چند مہینوں کے اندرفروخت بھی ہو چکا ہے۔کچھ رقم بطور معاوضہ کے (اس کو رائلٹی کہتے ہیں۔) اس کمپنی نے اس کو دی۔وہ ساری کی ساری رقم اشاعت اسلام کے لئے اس نے وقف کر دی۔ایک پیسہ نہیں لیا۔وہ دونوں میاں بیوی سکول میں کام کرتے ہیں۔ہر ایک کی قریباً ہزار، ہزار روپیہ تنخواہ ہے۔اور ٹیکس لگ جاتا ہے ان پر، قریباً ایک ہزار۔تو ایک ہزار بچتا ہے، ہر دو کی تنخواہ سے۔اب جس شخص کی ایک ہزار روپیہ ماہوار آمد ہے اور اسے ٹیلی فون کا دو ہزار کا بل آجائے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ کس قدر اسلام کا در درکھتا ہے، وہ شخص اگر کوئی شخص اس کو خط لکھے، اسلام پر اعتراض کرے یا اسلام کے متعلق کوئی بات پوچھے اور اس کے خط میں ٹیلی فون نمبر ہے تو وہ ٹیلی فون اٹھا کے اس کو ٹیلی فون کرتا ہے۔وہاں ٹیلی فون کا انتظام کچھ مختلف ہے۔جتنی دیر مرضی ہو، کوئی بات کرتا ہے۔یہ نہیں کہ تین منٹ کے بعد کہیں کہ تمہارا وقت ختم ہو گیا۔صرف بل آ جائے گا۔ایک گھنٹہ بھی کوئی بات کرے، ایک گھنٹہ کا بل دے دیں گے۔وہ ویسے سستا بھی ہے۔کافی ستا ہے۔ہم ہمبرگ سے لندن فون کرتے تھے تو پتہ چلا کہ اس کے اوپر پانچ ، چھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔تو کوئی اعتراض کر دے تو یہ شخص ٹیلی فون کے او پر تبلیغ شروع کر دیتا ہے، اعتراض دور کرتا ہے، مسئلے اس کو بتانے لگتا ہے۔ایک مہینہ میں دو ہزار روپے کا بل اس شخص کے نام آ گیا، جس کی ایک ہزار روپیہ آمد تھی۔تو بے دریغ اور بے دھڑک اسلام کی اشاعت پر اپنے اموال خرچ کرنے والے ہیں، یہ دوست۔جب امام کمال یوسف صاحب کو اس کا پتہ چلا تو انہوں نے کہا کہ یہ تمہارا ذاتی خرچ تو ہے نہیں، انہوں نے سوچا کہ ایک مہینہ میں دو مہینے کی آمد کے برابر بل وہ کیسے ادا کرے گا ؟ ) تم کو اشاعت قرآن سے جو آمد آ رہی ہے، وہ ہمارے پاس جمع ہو رہی ہے، میں اس میں سے یہ بل ادا کر دوں گا۔سو، دوسو کابل 201