تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 200 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 200

خطبه جمعه فرموده یکم ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم الہام نکال کر لکھا۔اور اس کا جرمن ترجمہ کروایا اور اس بوڑھے کو دے دیا۔بعد میں مجھے پتہ چلا کہ وہ احمدی نہیں ہے۔لیکن اس نے بڑی محبت اور پیار سے وہ مجھ سے لیا اور نہ کر کے اپنے بٹوے میں رکھا۔اس کے بعد تو پھر سارے میرے پیچھے پڑ گئے۔اور جتنے وہاں کے جرمن احمدی تھے ، کہنے لگے کہ ہمیں بھی الہام نکال کے دیں۔میں بھی یہی چاہتا تھا۔ہر ایک کے لئے اس کی تاریخ اور سنہ کا الہام تو نہ مل سکا۔(سوائے ایک کے جس کی تاریخ کا الہام غالباً مل گیا تھا۔کیونکہ ان میں سے اکثر وہ تھے، جن کی پیدائش 1908ء کے بعد ہوئی۔سال تو بہر حال نہیں مل سکتا تھا لیکن مہینے اور تاریخیں مل جاتی تھیں۔وہ الہام میں نے ان کو نکال کے اور ترجمہ کروا کے دیئے تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا ایک ایک الہام ان کو یادر ہے اور اس سے ان کا تعلق قائم ہو جائے۔ہر ایک نے پیچھے پڑ کے وہ الہامات مجھے سے نکلوائے اور کافی دیر تک وہاں بیٹھے رہے۔کیونکہ ترجمہ بھی کروانا تھا اور پھر ٹائپ بھی کرنا تھا۔ہر ایک نے بڑی محبت سے ان الہامات کو لیا اور سنبھال کے رکھا۔ایک کی والدہ بھی آئی تھیں، اس نے کہا، مجھے الہام نکال کے دیا ہے تو میری والدہ کے لئے بھی نکال دیں ، وہ بڑی خوش ہو گی۔وہ بڑا ہی مخلص جرمن نو جوان ہے۔چنانچہ اس کی والدہ کے لئے بھی میں نے الہام نکال کے دیا۔اور اتفاق کی بات ہے کہ وہ بیوہ ہے بیچاری ، جو شگی کی حالت میں دن گزار رہی تھی۔اس کے لئے الہام یہ نکلا ( اس وقت مجھے الفاظ یاد نہیں ) کہ بعد کے جو دن ہیں، وہ پہلے دنوں کی نسبت زیادہ خوشحالی کے ہیں، کچھ اس قسم کا ذکر ہے الہام میں۔ویسے بھی مطلب کے لحاظ سے یہ الہام اس کو خوش کرنے والا تھا۔برکت کے لحاظ سے تو بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں برکت ہے۔یہ ان لوگوں کے جذبات ہیں، جو چھوٹی چھوٹی باتوں سے ظاہر ہورہے تھے۔اصل میں یہ باتیں چھوٹی نہیں ہیں۔محبت کا اظہار جس رنگ میں بھی ہو، اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔نہ چھوٹا کہا جا سکتا ہے۔دنیا دار کی نگاہ میں وہ چھوٹی باتیں ہیں۔مگر پھوٹ پھوٹ کر ان کے دلوں سے محبت بہتی ، ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔یہ نومسلم قربانی کرنے والے ہیں۔مالی لحاظ سے بھی اور وقت کے لحاظ سے بھی۔اس وقت زیادہ تر دو ہی قربانیاں ہیں نا؟ جن کا جماعت یا ہمارا اللہ مطالبہ کرتا ہے۔ایک مال کی قربانی ، ایک وقت کی قربانی۔وقت کی قربانی میں ہی آرام کی قربانی بھی آجاتی ہے۔اور ہمارے یہ بھائی دونوں قسم کی قربانی دینے والے ہیں۔وہاں موصی پائے جاتے ہیں اور بشاشت کے ساتھ خود وصیت کا چندہ ادا کرتے ہیں، علاوہ دوسرے چندوں کے۔اس کے علاوہ اپنے طور پر خرچ کرتے ہیں، اسلام کی اشاعت پر۔ان میں 200